انسانی جسم بیماریوں کے خلاف سب سے مضبوط دفاع ہے، لیکن جب اندرونی طور پر کوئی مسئلہ جنم لیتا ہے تو جسم خاموش اشاروں کے ذریعے خبردار کرتا ہے۔
یہ علامات اکثر اتنی ہلکی ہوتی ہیں کہ لوگ انہیں اسٹریس، تھکن یا وقتی مسئلہ سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں، حالانکہ بعض اوقات یہی معمولی تبدیلیاں کسی بڑی بیماری کی ابتدائی علامت ہو سکتی ہیں۔
فارماسسٹ عموماً وہ پہلا فرد ہوتا ہے جس سے لوگ اس وقت رجوع کرتے ہیں جب طبی مسئلہ فوری تو نہ ہو مگر “سب کچھ ٹھیک بھی محسوس نہ ہو”۔
ماہرین کے مطابق بروقت توجہ کئی سنگین بیماریوں کو بڑھنے سے روک سکتی ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق درج ذیل پانچ علامات ایسی ہیں جو کسی اندرونی بیماری کی طرف اشارہ کر سکتی ہیں۔
1۔ بلند فشارِ خون (ہائی بلڈ پریشر)
برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) کے مطابق انگلینڈ میں تقریباً 42 لاکھ افراد ایسے ہو سکتے ہیں جو بغیر تشخیص کے ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہیں۔
مزید پڑھیں: سیب نہیں یہ سبزی کھائیں، بیماریاں دور بھگائیں
ہائی بلڈ پریشر کو “خاموش قاتل” کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی اکثر کوئی واضح علامت نہیں ہوتی، مگر یہ دل کے امراض، فالج، گردوں کی خرابی اور ویزکولر ڈیمنشیا کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔
پیرامڈ فارمیسی گروپ کے ڈائریکٹر امیر بھوگل کے مطابق بلڈ پریشر بڑھا ہوا ہو سکتا ہے اور آپ خود کو بالکل ٹھیک محسوس کریں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ باقاعدہ چیک اپ کے بغیر اس کا علم اس وقت ہوتا ہے جب جسم کو نقصان پہنچ چکا ہوتا ہے، خاص طور پر اگر خاندانی تاریخ میں دل کی بیماری یا فالج شامل ہو۔
2۔ مسلسل تھکن
لمبے ہفتے کے بعد تھکاوٹ معمول کی بات ہے، مگر پوری نیند کے باوجود تھکن محسوس ہونا غیر معمولی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر تھکن طویل عرصے تک برقرار رہے اور روزمرہ زندگی کو متاثر کرنے لگے تو یہ درج ذیل بیماریوں کی علامت ہو سکتی ہے؛
ذیابیطس
تھائیرائیڈ کی خرابی
خون کی کمی (انیمیا)
آئرن کی کمی
امیر بھوگل کا کہنا ہے کہ جب تھکن معمول سے بڑھ جائے تو اسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
3۔ بلڈ شوگر میں اتار چڑھاؤ
کبھی کبھار پسینہ آنا یا گھبراہٹ محسوس ہونا عام بات ہو سکتی ہے، مگر اگر یہ بار بار ہو تو یہ اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ جسم گلوکوز کو درست طریقے سے کنٹرول نہیں کر پا رہا۔
یہ علامات ذیابیطس کی ابتدائی نشانی ہو سکتی ہیں، جن میں شامل ہیں۔
چکر آنا
غیر معمولی بھوک
توجہ مرکوز کرنے میں دشواری
دل کی دھڑکن کا تیز ہونا
ماہرین کے مطابق ذیابیطس آہستہ آہستہ بڑھتی ہے اور یہ ابتدائی علامات بروقت تشخیص میں مدد دے سکتی ہیں۔
4۔ بار بار سر درد
کبھی کبھار سر درد ہونا عام ہے، جو اسٹریس یا پانی کی کمی کی وجہ سے ہو سکتا ہے، تاہم اگر سر درد کی شدت یا تعداد میں اضافہ ہو جائے تو یہ خطرے کی گھنٹی ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سر درد میں اچانک تبدیلی یا مسلسل درد کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
5۔ نظامِ ہاضمہ میں تبدیلیاں
نظامِ ہاضمہ کے مسائل اکثر وقتی ہوتے ہیں، مگر اگر یہ طویل عرصے تک برقرار رہیں تو یہ جگر، لبلبہ یا پتے سے متعلق بیماریوں کی علامت ہو سکتے ہیں۔
ان تبدیلیوں میں شامل ہیں۔
حاجت میں غیر معمولی کمی یا زیادتی
مسلسل قبض یا اسہال
مستقل پیٹ پھولنا
پیٹ درد جو ختم نہ ہو
پاخانے کے رنگ یا ساخت میں تبدیلی
ماہرین کا مشورہ
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جسم کے اشاروں کو سنجیدگی سے لینا اور بروقت ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے رجوع کرنا کئی سنگین بیماریوں سے بچاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔



















