ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو نے 2026 کے لیے اپنی سالانہ فہرست “Ten Breakthrough Technologies” جاری کر دی ہے۔
سالانہ فہرست میں ایسی جدید ٹیکنالوجیز شامل کی گئی ہیں جو آنے والے برسوں میں دنیا کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
ان میں توانائی، مصنوعی ذہانت، خلائی تحقیق کے ساتھ ساتھ بایوٹیکنالوجی اور صحت کے شعبے کی انقلابی ایجادات بھی شامل ہیں۔
بایوٹیکنالوجی کے شعبے میں 2026 کے لیے تین ایسی ٹیکنالوجیز کو نمایاں کیا گیا ہے جو طبی سائنس، انسانی جینیات اور اخلاقی مباحث کو نئی سمت دے سکتی ہیں۔
1۔ ذاتی نوعیت کی جین ایڈیٹنگ: “بیس ایڈیٹڈ بیبی”
اگست 2024 میں پیدا ہونے والا بچہ کے جے ملڈون ایک نایاب جینیاتی مرض میں مبتلا تھا، جس کے باعث اس کے خون میں زہریلا امونیا جمع ہو جاتا تھا۔ یہ مرض جان لیوا ثابت ہو سکتا تھا اور بچے کو دماغی پیچیدگیوں کا خطرہ لاحق تھا۔
روایتی علاج میں جگر کی پیوند کاری واحد راستہ تھا، تاہم ڈاکٹروں نے ایک تجرباتی ذاتی نوعیت کی جین تھراپی آزمانے کا فیصلہ کیا، جس میں “بیس ایڈیٹنگ” کے ذریعے مخصوص جینیاتی غلطی کو درست کیا گیا۔
مزید پڑھیں: امریکا۔چین ٹیکنالوجیکل جنگ شدید ، چین نے اے آئی چِپس کی درآمد روک دی
تین خوراکوں کے بعد علاج کامیاب رہا۔ بچہ نہ صرف صحت یاب ہے بلکہ اس نے دسمبر میں چلنا بھی شروع کر دیا۔
ماہرین کے مطابق یہ کامیابی مستقبل میں نوزائیدہ بچوں کے جینیاتی امراض کے علاج کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
تحقیقاتی ٹیم اب اسی طرز کے علاج کے لیے کلینیکل ٹرائل کی تیاری کر رہی ہے، تاکہ ریگولیٹری منظوری حاصل کر کے اس مہنگے علاج کو عام کیا جا سکے، جس پر فی الحال تقریباً 10 لاکھ ڈالر لاگت آتی ہے۔
2۔ معدوم جینز کی بحالی (Gene Resurrection)
2025 میں بایوٹیک کمپنی Colossal Biosciences نے توجہ حاصل کی، جس کا مقصد معدوم ہو چکی انواع کو دوبارہ زندہ کرنا ہے۔
کمپنی نے سب سے پہلے ایسے چوہے تیار کیے جن کی کھال اور مونچھیں اون دار میمتھ سے مشابہ تھیں۔ بعد ازاں کمپنی نے دعویٰ کیا کہ اس نے قدیم ڈائر وولف کی جینیاتی خصوصیات کے حامل تین جانور بھی تخلیق کیے ہیں۔
یہ جانور جدید بھیڑیوں کے ڈی این اے میں قدیم ہڈیوں سے حاصل کردہ جینیاتی معلومات شامل کر کے بنائے گئے۔
اگرچہ ماہرین اس بات پر متفق نہیں کہ انہیں مکمل طور پر “ڈائر وولف” کہا جا سکتا ہے، لیکن قدیم ڈی این اے کی تجزیہ کاری اور جینیاتی ترمیم کی یہ ٹیکنالوجی سائنسی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی نہ صرف سائنسی تحقیق بلکہ جنگلی حیات کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
3۔ ایمبریو اسکورنگ: مستقبل کے بچے کا انتخاب؟
آئی وی ایف کے عمل میں لیبارٹری میں بنائے گئے ایمبریوز کو عام طور پر صحت اور کامیابی کے امکانات کی بنیاد پر منتخب کیا جاتا ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں یہ عمل مزید آگے بڑھ چکا ہے۔
اب کچھ کمپنیاں ایمبریو کے ڈی این اے کا تجزیہ کر کے نہ صرف جینیاتی بیماریوں بلکہ قد، آنکھوں کے رنگ اور حتیٰ کہ ذہانت (IQ) جیسے عوامل کی بنیاد پر انتخاب کی سہولت بھی دے رہی ہیں۔
یہ ٹیکنالوجی شدید اخلاقی تنازع کا شکار ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ذہانت جیسے پیچیدہ عوامل کا درست اندازہ ممکن نہیں، جبکہ بعض ماہرین اسے یوجینکس (Eugenics) کی نئی شکل قرار دیتے ہیں۔
اس کے باوجود، کمپنی Nucleus جیسے ادارے والدین کو “بہترین بچہ منتخب کرنے” کی پیشکش کر رہے ہیں، جس پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔
ماہرین کی رائے
ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کے مطابق یہ تینوں ٹیکنالوجیز 2026 میں بایوٹیکنالوجی کے شعبے کو نئی سمت دیں گی، مگر ان کے ساتھ اخلاقی، سماجی اور قانونی سوالات بھی شدت اختیار کریں گے۔



















