نئی تحقیق میں سائنسدانوں نے ایک ایسا طریقہ دریافت کیا ہے جس سے عمر رسیدہ خلیات دوبارہ جوان ہونے کی علامات ظاہر کرسکتے ہیں۔ یہ دریافت عمر بڑھنے کے ساتھ خراب ہونے والے جسمانی نظام کو دوبارہ فعال کرنے کی امید پیدا کرتی ہے۔
عمر کے ساتھ جسمانی عمل سست ہوجاتے ہیں اور ٹشوز کی مرمت میں کمی آجاتی ہے۔ سان فرانسسکو یونیورسٹی کی تحقیق میں چار پروٹینز کی شناخت کی گئی جو خلیات میں جوانی کی علامات واپس لانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔
تحقیق میں جب ان پروٹینز میں سے ایک کی پیداوار بڑھائی گئی تو بوڑھے چوہوں کے جگر میں چربی اور زخموں میں کمی دیکھی گئی اور خون میں شکر کے برداشت کے اعداد بہتر ہوئے جو کہ ایک زیادہ فعال اور جوان اعضاء کی نشانی ہے۔
لیبارٹری میں انسانی خلیات پر بھی یہی تجربہ کیا گیا، جہاں خلیات میں تقسیم اور توانائی میں اضافہ دیکھنے کو ملا۔ محققین نے بتایا کہ ان پروٹینز کی سطح میں تبدیلی خلیات کو ایسا محسوس کرواتی ہے جیسے وہ دوبارہ جوان ہوگئے ہوں۔
چار اہم پروٹینز کی شناخت کے بعد تحقیق نے یہ دکھایا کہ یہ اثر مختلف خلیات اور جانداروں میں بھی ظاہر ہوتا ہے جس سے یہ ایک ممکنہ عمومی طریقہ ثابت ہوسکتا ہے۔
تاہم یہ تحقیق ابتدائی مرحلے میں ہے اور ابھی زندگی بڑھانے یا جسم کے تمام اعضا کو دوبارہ جوان کرنے کی بات نہیں کی جا سکتی۔
طویل مدت میں اثرات جاننے کے لیے مزید تجربات ضروری ہیں کیونکہ کچھ پروٹینز کے زیادہ استعمال کو سرطان سے بھی جوڑا گیا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ صحت مند جسم کو برقرار رکھنے کے ممکنہ طریقے تلاش کرنا ضروری ہے اور یہ تحقیق عمر رسیدگی سے متعلق بیماریوں کے علاج میں نئی راہیں کھول سکتی ہے۔




















