Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ڈاکٹروں کی عام اینٹی الرجی دوا کے استعمال کے خلاف وارننگ

جدید اینٹی ہسٹامین ادویات جیسے فیکسوفیناڈین (Allegra) اور لوراٹاڈین (Claritin) کو متبادل کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے

ماہر ڈاکٹروں نے عام طور پر استعمال ہونے والی اینٹی الرجی دوا کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے فوائد کے مقابلے میں اس کے مضر اثرات کہیں زیادہ ہیں۔

ماہرین کے مطابق اوور دی کاؤنٹر (OTC) اینٹی الرجی دوا ڈائفن ہائیڈر امین، جو بیناڈرِل (Benadryl) کا بنیادی جزو ہے، الرجی کے علاج یا نیند لانے کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال کی جاتی ہے، تاہم اس کے سنگین سائیڈ ایفیکٹس سامنے آ رہے ہیں۔

لاکھوں بالغ اور بچے یہ دوا ناک بہنے، چھینکوں، خارش اور آنکھوں میں پانی جیسی الرجی علامات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

مگر ماہرینِ امراض کا کہنا ہے کہ امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) کو اس دوا کو امریکی مارکیٹ سے ہٹا دینا چاہیے کیونکہ اس کے استعمال سے دماغ کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

ڈائفن ہائیڈر امین کیا ہے؟

ڈائفن ہائیڈر امین پہلی نسل کی اینٹی ہسٹامین دوا ہے جو آسانی سے دماغ میں داخل ہو جاتی ہے، جس کے باعث شدید غنودگی، توجہ میں کمی اور جسمانی توازن متاثر ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں: یہ عام سی غذا جلد پر لگائیں، الرجی سے نجات پائیں

ماہرین کے مطابق اس دوا کے استعمال سے کام کی صلاحیت کم، تعلیمی کارکردگی متاثر اور ٹریفک حادثات کا خطرہ نمایاں حد تک بڑھ جاتا ہے۔

بعض تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ گاڑی چلانے پر اس کے اثرات قانونی حد سے زیادہ شراب نوشی سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوئے۔

دیگر خطرناک مضر اثرات

غنودگی کے علاوہ اس دوا کے استعمال سے منہ کا خشک ہونا، قبض، نظر دھندلا جانا، ذہنی الجھن اور کنفیوژن اور پیشاب میں دشواری وغیرہ، جیسے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ اثرات خاص طور پر عمر رسیدہ افراد کے لیے خطرناک ہیں، جبکہ نوجوانوں میں اس دوا کی زیادہ مقدار لینے کے واقعات بھی سامنے آ چکے ہیں۔

بیناڈرِل کا متبادل کیا ہے؟

ماہرین صحت کے مطابق جدید اینٹی ہسٹامین ادویات جیسے فیکسوفیناڈین (Allegra) اور لوراٹاڈین (Claritin) کو اس کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے، یہ ادویات بھی الرجی میں اتنی ہی مؤثر ہیں، مگر ان کے مضر اثرات کم اور اثر دیرپا ہوتے ہیں۔

ماہرین کا مشورہ

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ الرجی یا نیند کے لیے دوا استعمال کرنے سے قبل ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے مشورہ ضروری ہے، خاص طور پر بچوں اور بزرگ افراد کے لیے۔