Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

عالمی ٹیک کمپنی میں نئی چھانٹیوں کا خدشہ: ہزاروں ملازمین کی بیروزگاری کا امکان

ممکنہ طور پر یہ تعداد ہزاروں میں ہو سکتی ہے اور اس کا دائرہ مختلف شعبوں تک پھیل سکتا ہے

دنیا کی سب سے بڑی ای کامرس اور ٹیکنالوجی کمپنیوں میں شامل ایمازون ایک بار پھر بڑے پیمانے پر ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کرنے کی تیاری کرتی دکھائی دے رہی ہے۔

تازہ ترین بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق کمپنی آئندہ دنوں میں ہزاروں ملازمتیں ختم کرنے کا اعلان کر سکتی ہے، جس سے عالمی سطح پر ملازمین میں بے چینی کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔

امریکی خبر رساں اداروں میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق ایمازون کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر اینڈی جیسی مستقبل قریب میں نئی چھانٹیوں کے منصوبے کا باضابطہ اعلان کر سکتے ہیں۔

رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ تعداد ہزاروں میں ہو سکتی ہے اور اس کا دائرہ مختلف شعبوں تک پھیل سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں سیٹلائیٹ انٹرنیٹ کی دوڑ، اسٹارلنک کے بعد ایمازون کائپر بھی انٹری کے لیے تیار

یہ قیاس آرائیاں اس وقت سامنے آئی ہیں جب محض چند ماہ قبل ہی ایمازون نے تقریباً 14 ہزار ملازمتیں ختم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق کمپنی میں جاری لاگت کم کرنے کی پالیسی، عالمی معاشی دباؤ اور ٹیک سیکٹر میں سست روی ایسے عوامل ہیں جو مسلسل چھانٹیوں کی بنیادی وجہ بن رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایمازون نے گزشتہ برسوں میں ریکارڈ منافع حاصل کیا، تاہم بڑھتے ہوئے اخراجات، آٹومیشن، مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال اور انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیوں کے باعث ملازمین کی تعداد کم کرنے کو ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔

اس صورتحال نے نہ صرف ایمازون کے موجودہ ملازمین بلکہ پوری ٹیک انڈسٹری میں کام کرنے والے افراد کو غیر یقینی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔

ابھی تک ایمازون کی جانب سے اس ممکنہ اقدام پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا، تاہم کمپنی کی خاموشی بھی ان رپورٹس کو تقویت دے رہی ہے۔

ماضی میں بھی ایمازون اسی نوعیت کی رپورٹس کے بعد چھانٹیوں کا اعلان کر چکا ہے، جس کے باعث ملازمین ان خبروں کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔