سائنسدان ایک طویل عرصے سے خلائی مخلوق کی موجودگی کے بارے میں انکشافات کرتے آئیں ہیں تاہم ایک نئی تحقیق میں خلائی مخلوق کے وجود کے امکانات بڑھ گئے۔
ایک نئی تحقیق کے مطابق ایسے سیاروں کی تعداد ہماری سوچ سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے جہاں پانی مائع شکل میں موجود ہو لیکن ہم نے انہیں نظر انداز کر دیا ہو لیکن یہی وہ جگہ ہو جہاں خلائی مخلوق رہتی ہو۔
برسوں سے سائنس دان زندگی کی تلاش ان سیاروں میں کرتے آئے ہیں جو ’قابلِ رہائش‘ یا ’معتدل درجۂ حرارت‘ کے زون میں واقع ہوں، جہاں نہ حد سے زیادہ گرمی ہو اور نہ شدید سردی، تاکہ مائع پانی کا وجود ممکن ہو۔ چونکہ زمین پر زندگی کے لیے پانی بنیادی شرط ہے، اسی لیے ایسے ہی سیاروں کو خلائی مخلوق کی تلاش کا مرکز سمجھا جاتا رہا ہے۔
تاہم دیگر نظامِ شمسی میں دریافت ہونے والے زیادہ تر سیارے اس معیار پر پورا نہیں اترتے۔ اس وجہ سے ماہرین کا خیال تھا کہ ان میں سے بڑی تعداد زندگی کے لیے ناموزوں ہے۔
اب ایک نئی تحقیق نے اس تصور کو چیلنج کیا ہے۔جس کے مطابق ممکن ہے کہ ہم نے قابلِ رہائش سیاروں کے لیے معیار حد سے زیادہ سخت مقرر کر رکھا ہو، اور ایسی کئی دنیائیں موجود ہوں جہاں مائع پانی کا وجود ممکن ہے لیکن ہم نے انہیں نظر انداز کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا ہم ریاضی کے ذریعے خلائی مخلوق سے بات کرسکتے ہیں؟ شہد کی مکھیوں نے راز کھول دیا
تحقیق میں خاص طور پر ان سیاروں کا جائزہ لیا گیا ہے جو اپنے ستارے کے گرد گھومتے تو ہیں لیکن اپنی محوری گردش نہیں کرتے، یعنی جن کا ایک رخ ہمیشہ ستارے کی طرف رہتا ہے جبکہ دوسرا رخ مستقل طور پر اندھیرے میں ڈوبا رہتا ہے۔ ایک موسمیاتی ماڈل کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ ایسے سیاروں پر موسم کا نظام کیسے کام کر سکتا ہے۔
نتائج سے پتا چلا کہ دن والے حصے کی گرم فضا گردش کرتے ہوئے رات والے حصے تک پہنچ سکتی ہے، جس سے وہاں درجۂ حرارت اتنا برقرار رہتا ہے کہ پانی جمنے سے بچ سکتا ہے۔ اس عمل کے باعث مائع پانی کا امکان پیدا ہو جاتا ہے، اور یوں قابلِ رہائش دنیاؤں کی تعداد ہمارے سابقہ اندازوں سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
اس تحقیق کی روشنی میں یہ بھی ممکن ہے کہ ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے ذریعے حال ہی میں دریافت کیے گئے وہ سیارے، جن کی فضا میں آبی بخارات اور دیگر گیسیں دیکھی گئی ہیں، درحقیقت ایسے حالات رکھتے ہوں جہاں سطح پر پانی موجود ہو سکتا ہے۔
مزید برآں، تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ وہ سیارے جنہیں پہلے بہت زیادہ سرد اور مائع پانی کے لیے ناموزوں سمجھا جاتا تھا، وہاں موٹی برف کی تہوں کے درمیان پانی جمع ہو سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات میں زندگی کے ممکنہ ٹھکانے ہماری سوچ سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔
