قومی ٹیم کے سلیکٹر عاقب جاوید کا کہنا ہے کہ کنڈیشنز کو مدنظر رکھتے ہوئے ورلڈ کپ کے لیے ٹیم بنائی گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ایک دوسرے سے مختلف ہیں، اسی لیے کنڈیشنز کے حساب سے فیصلے کیے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ چیلنجنگ کنڈیشنز میں بابر اعظم کا ہونا ضروری ہے کیونکہ وہ ہر طرح کی صورتحال میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
عاقب جاوید کے مطابق ٹیم میں ایسے کھلاڑی ہونے چاہئیں جو ہر کنڈیشن میں پرفارم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
بابراعظم کی ٹیم میں شمولیت کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سری لنکا کی کنڈیشن کو دیکھتے ہوئے بابر اعظم کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔
ان کے مطابق تینوں فارمیٹس میں کرکٹ مختلف ہوتی ہے مگر ہم اب بھی ٹی ٹوئنٹی کو ٹیسٹ اور ون ڈے کی طرح کھیلتے ہیں، جو درست اپروچ نہیں۔
مزید پڑھیں: آئی سی سی: بنگلادیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو ورلڈکپ میں شامل کرنے کا اعلان
عاقب جاوید نے کہا کہ پاکستان پچھلے آئی سی سی ٹورنامنٹس میں اچھی کارکردگی نہ دکھانے کی وجہ سے گروپ مرحلے میں باہر ہوا، تاہم موجودہ کھیل کو دیکھتے ہوئے ورلڈ کپ میں قوم کو امیدیں ہیں۔
بابر اعظم کے نام پر کپتان اور کوچ دونوں نے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہم سلیکٹر ہیں اور ہمارا کام ٹیم منتخب کرنا ہے، جبکہ ورلڈ کپ میں شرکت کا فیصلہ حکومتِ پاکستان کرے گی، ہم نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہے۔
اچھی کرکٹ کھیلیں گے تو ہی کامیابی ملے گی، سلمان علی آغا
قومی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے کہا کہ جیت کے لیے اچھی کرکٹ کھیلنا ناگزیر ہے، انہوں نے اعتراف کیا کہ پچھلے ٹورنامنٹس میں پاکستان کی کارکردگی اچھی نہیں رہی، تاہم ورلڈ کپ چیلنجنگ ہوگا اور ٹیم اس کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
سلمان علی آغا کا کہنا تھا کہ سری لنکا میں عموماً ہائی اسکورنگ کرکٹ نہیں ہوتی، اس لیے کنڈیشنز کے مطابق کھیلنا ہوگا۔
سلمان علی آغا نے کہا کہ سری لنکا میں تمام میچز کھیلنے کا فائدہ ضرور ہے لیکن خراب کرکٹ کھیل کر جیت ممکن نہیں۔ کنڈیشن کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ بڑے اسکور نہیں بنیں گے، اسی لیے رول زیادہ اہم ہے، بیٹنگ نمبر نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بابر اعظم کم بیک کے بعد اچھی بیٹنگ کر رہے ہیں، اگرچہ وہ آسٹریلیا میں پرفارم نہیں کر سکے، مگر پاکستان کے لیے ان کی کارکردگی ہمارے لیے اہم ہے۔
سری لنکا کی کنڈیشن کو مدنظر رکھتے ہوئے فاسٹ بولرز کا انتخاب کیا، مائیک ہیسن
ہیڈ کوچ مائک ہیسن کا کہنا تھا کہ عثمان خان نے ٹیم میں واپسی پر اچھی پرفارمنس دی اور سری لنکا کے خلاف شاندار وکٹ کیپنگ کی۔
ان کے مطابق صاحبزادہ فرحان کو کپتانی کے دوران انجری مسائل رہے، اس لیے ان پر غیر ضروری رسک نہیں لیا جا سکتا، وہ ٹیم کے اہم کھلاڑی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سری لنکا کی کنڈیشن کو مدنظر رکھتے ہوئے فاسٹ بولرز کا انتخاب کیا گیا ہے، جبکہ بابر اعظم بی بی ایل میں اوپننگ کرتے رہے ہیں مگر قومی ٹیم میں وہ ون ڈاؤن ہی کھیلیں گے۔
