Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

جسم کے کیفین توڑنے کے عمل کا ذیابیطس سے کیا تعلق ؟

جینیاتی طور پر زیادہ کیفین لیول رکھنے والوں میں جسمانی چربی میں معمولی کمی پائی گئی

زیادہ کافی پینا لازماً جسم میں زیادہ کیفین ہونے کے برابر نہیں ہوتا، اصل فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ جسم کیفین کو کتنی تیزی سے توڑتا ہے۔

نئی تحقیق کے مطابق جینیاتی عوامل جو کیفین کے میٹابولزم کو سست کرتے ہیں، اُن افراد میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرے میں تقریباً 19 فیصد کمی سے منسلک پائے گئے، اور یہ اثر کافی پینے کی مقدار سے آزاد تھا۔

کارولنسکا انسٹی ٹیوٹ (KI) کے محققین نے کافی کے کپ سے آگے بڑھ کر خون میں موجود کیفین کی سطح پر توجہ دی۔

اس تحقیق کی قیادت ڈاکٹر سوزانا سی لارسن نے کی، جنہوں نے غذا سے متعلق عوامل اور جینیات کے باہمی اثرات کو میٹابولک اور قلبی بیماریوں کے طویل المدتی خطرات کے تناظر میں جانچا۔

تحقیق کے مطابق خون میں کیفین کی مقدار اس بات پر منحصر ہے کہ انسان کیا پیتا ہے اور اس کا جگر کیفین کو کتنی جلدی توڑتا ہے۔

جن افراد میں کیفین کا میٹابولزم سست ہوتا ہے، اُن میں خون میں کیفین زیادہ دیر برقرار رہتی ہے، جبکہ ایسے افراد عموماً کم کافی پیتے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ زیادہ کافی پینا ہمیشہ زیادہ کیفین کے برابر نہیں ہوتا۔

مزید پڑھیں: کافی دل کی صحت کیلئے مفید یا مضر، نئی تحقیق میں اہم انکشاف

مطالعے میں یہ بھی دیکھا گیا کہ جینیاتی طور پر زیادہ کیفین لیول رکھنے والوں میں جسمانی چربی میں معمولی کمی پائی گئی۔

ایسے افراد میں بی ایم آئی میں اوسطاً 0.38 پوائنٹس کی کمی اور چربی کے وزن میں تقریباً 0.57 کلوگرام کمی دیکھی گئی، جبکہ دبلی جسامت رکھے والے افراد میں خاص فرق سامنے نہیں آیا۔

ذیابیطس کے حوالے سے شواہد سب سے مضبوط رہے۔ بڑے بین الاقوامی ڈیٹا سیٹس میں یہی رجحان بار بار سامنے آیا، جس سے نتائج کو تقویت ملی۔

تجزیے کے مطابق ذیابیطس پر پڑنے والے اثر کا تقریباً 43 فیصد حصہ بی ایم آئی میں کمی کے ذریعے سامنے آیا، جبکہ باقی اثرات ممکنہ طور پر انسولین کے ردعمل جیسے دیگر حیاتیاتی عوامل سے جڑے ہو سکتے ہیں۔

اس کے برعکس دل کے امراض اور فالج کے حوالے سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا۔

کورونری بیماری، دل کی بے ترتیبی، دل کی ناکامی اور فالج میں کوئی مستقل جینیاتی سگنل نہیں ملا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کیفین کا اثر وزن اور ذیابیطس پر زیادہ نمایاں ہے بنسبت قلبی بیماریوں کے۔

ماہرین کے مطابق کیفین کے استعمال میں اعتدال ضروری ہے۔ امریکی ایف ڈی اے کے مطابق زیادہ تر بالغ افراد کے لیے روزانہ 400 ملی گرام کیفین محفوظ سمجھی جاتی ہے، جبکہ بہت زیادہ مقدار نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں کیفین کی براہِ راست پیمائش اور کنٹرولڈ مطالعات سے مزید واضح نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

یہ تحقیق جریدے BMJ Medicine میں شائع ہوئی ہے۔