لاہور کی سرد فضا میں جب پاک آسٹریلیا ٹی ٹوئنٹی سیریز کی ٹرافی سے پردہ اٹھایا گیا تو ماحول میں صرف ٹھنڈ نہیں بلکہ کرکٹ کا خمار بھی واضح تھا۔ قذافی اسٹیڈیم میں پاکستان اور آسٹریلیا کے کپتان ایک ساتھ موجود تھے اور کرکٹ شائقین کی نظریں آنے والی سیریز پر جمی ہوئی تھیں۔
ٹرافی کی رونمائی قومی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا اور آسٹریلوی کپتان مچل مارش نے مشترکہ طور پر کی۔ اس موقع پر دونوں کپتانوں کے چہروں سے اعتماد اور جوش نمایاں تھا، جو اس سیریز کی اہمیت کو خود بیان کر رہا تھا۔
آسٹریلوی کپتان مچل مارش نے پریس کانفرنس میں مسکراتے ہوئے اعتراف کیا کہ انہیں پاکستان کی سردی کا بالکل اندازہ نہیں تھا۔ انھوں نے کہا کہ میں سردی کے کپڑے بھی ساتھ نہیں لایا، مگر ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ موسمی فرق کے باوجود آسٹریلوی ٹیم مکمل طور پر تیار ہے۔
مچل مارش کے مطابق یہ سیریز آئندہ ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے فاسٹ بولرز کی تاریخ شاندار رہی ہے اور موجودہ ٹیم میں بھی خطرناک بولرز موجود ہیں، خاص طور پر شاہین شاہ آفریدی کو انہوں نے ایک باصلاحیت اور میچ ونر باؤلر قرار دیا۔
دوسری جانب قومی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے میڈیا سے گفتگو میں ٹیم کے وژن اور ترجیحات پر کھل کر بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ٹیم درست سمت میں گامزن ہے اور یہ تینوں میچز نہایت اہم ہیں۔
“جہاں ضرورت ہوتی ہے، ہم جارحانہ کرکٹ کھیلتے ہیں،” سلمان علی آغا نے واضح کیا۔
انہوں نے بار بار اس بات پر زور دیا کہ ٹیم صرف ایک یا دو کھلاڑیوں پر انحصار نہیں کرتی، اور بھی چودہ کھلاڑی ہیں، ان کے بارے میں سوال کیا کریں۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ پریس کانفرنسز میں بابر اعظم کے علاوہ بھی ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں پر بات ہونی چاہیے۔
سلمان علی آغا کے مطابق ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں کوئی ٹیم چھوٹی یا بڑی نہیں ہوتی۔
“جس سے ہار جائیں، وہی ٹیم بڑی بن جاتی ہے،” ان کا یہ جملہ جدید کرکٹ کی حقیقت کو بیان کرتا ہے۔
قومی کپتان نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ ٹیم کیمپ میں گزشتہ دس دنوں کے دوران خامیوں کو دور کرنے پر خاص توجہ دی گئی ہے، کھلاڑیوں کو ان کے کردار واضح طور پر بتا دیے گئے ہیں اور ہوم کنڈیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اچھی کرکٹ کھیلنے کی کوشش کی جائے گی۔
سلمان علی آغا نے شائقینِ کرکٹ سے اپیل کی کہ وہ ٹیم کو اسی طرح سپورٹ کریں جیسے ماضی میں کرتے آئے ہیں، کیونکہ پاکستان میں کرکٹ صرف کھیل نہیں بلکہ جذبات کا نام ہے۔
سرد موسم، بڑے نام اور ورلڈ کپ کی تیاری—پاک آسٹریلیا ٹی ٹوئنٹی سیریز صرف تین میچز نہیں بلکہ دونوں ٹیموں کے لیے خود کو پرکھنے کا ایک سنہری موقع ہے۔


















