شمالی کوریا نے اپنی فوجی قوت میں ایک اور چونکا دینے والا اضافہ کرتے ہوئے بڑے کیلیبر کے ملٹی بیرل راکٹ لانچر سسٹم کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے۔
اس موقع پر صدر کم جونگ اُن نے واضح پیغام دیا کہ پیونگ یانگ اپنی جوہری مزاحمتی طاقت اور جارحانہ صلاحیتوں کو مزید ناقابلِ نظرانداز بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
ملکی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق یہ تجرباتی فائرنگ منگل کے روز محکمہ میزائل کی نگرانی میں انجام دی گئی، جس کا مقصد جدید ٹیکنالوجی سے لیس فائر کنٹرول سسٹم کی عملی کارکردگی کو جانچنا تھا۔
کم جونگ اُن نے اعلیٰ فوجی اور سرکاری حکام کے ہمراہ خود میدان میں موجود رہ کر فائرنگ کا مشاہدہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق آزمائش کے دوران داغے گئے چار راکٹوں نے تقریباً 358 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہوئے سمندر میں مقررہ اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا، جسے عسکری ماہرین ایک نمایاں پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
صدر کم جونگ اُن نے اس تجربے کو شمالی کوریا کی اسٹریٹجک جارحانہ صلاحیت میں اضافے کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس جدید نظام نے ملک کی حربی اور ضربی قوت کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کم از کم آئندہ چند برسوں تک کوئی اور ملک اس نوعیت کی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

















