پاکستان ہوزری مینو فیکچررز ایسوسی ایشن (پی ایچ ایم اے) نے بھارت اور یورپی یونین کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے) کو پاکستانی ٹیکسٹائل برآمدات کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ یورپی منڈی میں بھارتی غلبہ قائم کرنے کی منظم کوشش ہے۔
چیئرمین پی ایچ ایم اے فیصل ارشد شیخ کا کہنا ہے کہ جی ایس پی پلس کی سہولت کے باوجود انڈیا–یورپی یونین معاہدہ پاکستانی ایکسپورٹس کو شدید متاثر کرے گا اور یورپی منڈی میں پاکستان کی بقاء خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
فیصل ارشد شیخ نے واضح کیا کہ صرف ڈیوٹی فری رسائی مسابقت کی ضمانت نہیں ہوتی، اصل مسئلہ پیداواری لاگت ہے، جہاں بھارت کو کم لاگت، سستی توانائی، مضبوط لاجسٹکس اور ریاستی سرپرستی کی وجہ سے واضح برتری حاصل ہے، جبکہ پاکستان کو مہنگی بجلی، بلند فنانسنگ لاگت اور سخت شرائط کا سامنا ہے۔
پی ایچ ایم اے کے مطابق جی ایس پی پلس کی کڑی شرائط پاکستانی برآمد کنندگان پر اضافی بوجھ ڈال رہی ہیں، جبکہ بھارت ایف ٹی اے کے ذریعے یورپی منڈی میں اپنی گرفت مضبوط کرنے کی پوزیشن میں آ رہا ہے۔
اس صورتحال میں ہوزری اور نِٹ ویئر سیکٹر میں پاکستان کے مارکیٹ شیئر میں نمایاں کمی کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
چیئرمین پی ایچ ایم اے نے خبردار کیا کہ اگر پیداواری لاگت میں فوری کمی نہ کی گئی تو پاکستان عالمی مسابقت میں مزید پیچھے چلا جائے گا، جس کے اثرات براہِ راست برآمدات، صنعت اور لاکھوں ملازمتوں پر پڑیں گے۔
انہوں نے توانائی نرخوں میں کمی، سستی فنانسنگ اور صنعت دوست اصلاحات کو ناگزیر قرار دیا۔
فیصل ارشد شیخ نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر تمام اسٹیک ہولڈرز کا ہنگامی اجلاس بلائے اور ٹیکسٹائل برآمدات و روزگار کے تحفظ کے لیے جنگی بنیادوں پر اصلاحات کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب صرف جی ایس پی پلس پر انحصار کافی نہیں رہا، اگر یورپی منڈی میں مسابقت کم ہوئی تو اس کے منفی اثرات پوری معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔




















