کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) نے خبردار کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے سپر ٹیکس کی یکمشت وصولی معیشت کے لیے شدید خطرہ بن سکتی ہے۔
کے سی سی آئی کے صدر ریحان حنیف کا کہنا ہے کہ ایک ساتھ بھاری ٹیکس کی ادائیگی سے کاروباری سرگرمیاں مفلوج ہو جائیں گی اور کیش فلو شدید متاثر ہوگا۔
صدر کراچی چیمبر نے بتایا کہ سپر ٹیکس کی جارحانہ وصولی سے برآمدات میں کمی کا خدشہ ہے، خاص طور پر ٹیکسٹائل اور ویلیو ایڈڈ برآمدی شعبے پر دباؤ بڑھ جائے گا۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سپر ٹیکس کو ریفنڈ ایڈجسٹمنٹ یا اقساط میں وصول کیا جائے تاکہ صنعتی سرگرمیوں اور ورکنگ کیپیٹل کو نقصان نہ پہنچے۔
ریحان حنیف نے مزید کہا کہ اگر سپر ٹیکس کی فوری اور یکمشت وصولی ہوئی تو تنخواہوں کی ادائیگی اور یوٹیلیٹی بلوں کی پورا کرنا مشکل ہو جائے گا، جس کے نتیجے میں چھوٹی اور درمیانی صنعتیں سب سے زیادہ متاثر ہوں گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ریلیف نہ ملا تو صنعتی بندش اور بیروزگاری میں اضافہ ہو گا اور جبری ٹیکس وصولی سے ٹیکس بیس مزید سکڑ جائے گا۔
کے سی سی آئی کے مطابق موجودہ مالی دباؤ میں سپر ٹیکس کی یکمشت وصولی سے ملکی معیشت کے اہم شعبے شدید نقصان اٹھا سکتے ہیں، جس سے نہ صرف کاروبار متاثر ہوں گے بلکہ یورپی اور عالمی منڈی میں برآمدات کی مسابقت بھی کمزور ہو سکتی ہے۔
صدر کراچی چیمبر نے زور دیا کہ حکومت فوری اقدامات کرے اور ٹیکس وصولی میں لچک پیدا کرے تاکہ معیشت، روزگار اور صنعتیں محفوظ رہیں۔




















