Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

عمر کے ساتھ یادداشت کیوں کمزور ہوتی ہے؟ اصل وجہ سامنے آگئی

یادداشت کا زوال محض بڑھاپے کا قدرتی نتیجہ نہیں، ماہرین

عمر بڑھنے کے ساتھ انسان کی یادداشت، خاص طور پر ماضی کے واقعات اور تجربات یاد رکھنے کی صلاحیت بتدریج کمزور ہونے لگتی ہے۔ یہ بات تو طے شدہ ہے مگر یہ عمل کیسے اور کیوں ہوتا ہے اس پر سائنسی دنیا میں طویل عرصے سے سوالات موجود تھے۔ حالیہ تحقیق نے اس حوالے سے کئی اہم پہلو واضح کردیے ہیں۔

ناروے کی جامعہ اوسلو کی قیادت میں ماہرین نے ایک وسیع تحقیق کی جس میں یہ جانچنے کی کوشش کی گئی کہ آیا یادداشت کی کمزوری تمام افراد کو یکساں متاثر کرتی ہے یا اس کے پیچھے کچھ مخصوص ذاتی یا جینیاتی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔

اس مقصد کے لیے مختلف طویل المدتی تحقیقی منصوبوں سے ہزاروں افراد کا ڈیٹا یکجا کیا گیا۔ تحقیق میں تقریباً چار ہزار ایسے افراد شامل تھے جو ذہنی طور پر صحت مند تھے اور کئی برسوں تک ان کی نگرانی کی گئی۔

ان افراد کے دماغ کے 10 ہزار سے زائد اسکینز اور 13 ہزار سے زیادہ یادداشت کے ٹیسٹ کا تجزیہ کیا گیا جس سے عمر کے ساتھ دماغ میں ہونے والی تبدیلیوں کی ایک واضح تصویر سامنے آئی۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ یادداشت کی کمزوری کا تعلق صرف دماغ کے ایک حصے سے نہیں ہوتا۔ اگرچہ دماغ کا وہ حصہ جو سیکھنے اور یاد رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے، سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے مگر مجموعی طور پر دماغ کے کئی حصوں میں بافتوں کے سکڑنے کا عمل یادداشت پر اثر انداز ہوتا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ 60 برس سے زائد عمر کے افراد میں یہ تعلق زیادہ نمایاں ہوجاتا ہے، خاص طور پر ان لوگوں میں جن کے دماغ کے خلیات اوسط سے زیادہ تیزی سے کم ہورہے ہوتے ہیں۔

کچھ افراد میں ایک مخصوص جینیاتی عنصر کی موجودگی کے باعث دماغی سکڑاؤ اور یادداشت کی کمزوری نسبتاً تیز دیکھی گئی تاہم مجموعی رجحان سب میں تقریباً ایک جیسا تھا۔

ماہرین کے مطابق یادداشت کا زوال محض بڑھاپے کا قدرتی نتیجہ نہیں بلکہ یہ انفرادی جسمانی ساخت اور عمر کے ساتھ ہونے والے دماغی عمل کا مجموعہ ہے جو بعض صورتوں میں اعصابی بیماریوں کی راہ ہموار کرتا ہے۔

اس تحقیق سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا گیا کہ یادداشت کو بہتر رکھنے یا اس کے زوال کو سست کرنے کے لیے علاج کا دائرہ صرف ایک حصے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ دماغ کے مختلف حصوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

ساتھ ہی یہ بھی واضح ہوا کہ اگر ایسے اقدامات ابتدائی عمر میں شروع کیے جائیں تو زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جوں جوں ہم عمر رسیدگی میں یادداشت پر اثر انداز ہونے والے عوامل کو بہتر سمجھتے جائیں گے ویسے ویسے بروقت تشخیص اور ذاتی نوعیت کے علاج کے امکانات بھی بڑھتے جائیں گے جو عمر بھر ذہنی صحت کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔