اسلام آباد: سپریم کورٹ نے خیبر پختونخوا کے برطرف ملازم کی بحالی اور واجبات کی ادائیگی سے متعلق بڑا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔
سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ کا فیصلہ جسٹس شاہد وحید نے تحریر کیا، جس میں انصاف کی اہمیت پر ایک نظم بھی درج کی گئی۔
سپریم کورٹ نے فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ ملازم کا یہ کہنا کافی ہے کہ وہ بےروزگار تھا، اسے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے در در نہیں بھٹکنا پڑے گا، جھوٹا ثابت کرنے کے لیے ثبوت لانا محکمے کی ذمہ داری ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ آئین کا آرٹیکل 9 زندگی کی ضمانت دیتا ہے، جس میں روزگار کا تحفظ بھی شامل ہے جبکہ آرٹیکل 10-A کے تحت ہر سرکاری افسر اپنے ہر فیصلے کا عقلی، معقول اور ٹھوس جواز فراہم کرنے کا پابند ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ صوابدیدی اختیارات ایک مقدس امانت ہیں، جنہیں ذاتی پسند و ناپسند کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا، غیر منصفانہ یا من مانے فیصلوں کے خلاف عدالتی مداخلت ناگزیر ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ نظام کی خرابی یا مقدمے بازی میں طویل تاخیر کی سزا غریب ملازم کو نہیں دی جا سکتی۔
عدالت نے برطرف پولیس اہلکاروں کے کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے انہیں ایک ماہ کے اندر تمام بقایاجات ادا کرنے کا حکم دے دیا۔
سپریم کورٹ نے یہ اصول بھی قائم کیا کہ غلط برطرفی کا شکار ملازم مکمل واجبات کا قانونی حقدار ہے اور ملازمین کی برطرفی کے دوران تنخواہ نہ دینا آئینی جرم ہے۔
آخر میں فیصلے میں ولیم شیکسپیئر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ “رزق چھیننا زندگی چھیننے کے مترادف ہے۔”




















