Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

اسمارٹ فونز اب تابکاری کا پتہ لگا سکتا ہے

محض 70 ڈالر سے بھی کم سرمایہ کا استعمال  قدرتی آفات یا جوہری حادثات جیسے حالات میں اہم مدد فراہم کر سکتا ہے۔

جاپان کی ہیروشیما یونیورسٹی کے محققین نے ایک ایسا نیا طریقہ دریافت کیا ہے جس سے اسمارٹ فونز کے کیمروں کو تابکاری کی درست پیمائش کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

محض 70 ڈالر سے بھی کم سرمایہ کا استعمال  قدرتی آفات یا جوہری حادثات جیسے حالات میں اہم مدد فراہم کر سکتا ہے۔

جب کسی شخص کو تابکاری کا سامنا ہوتا ہے، توایسی صورت میں علاج کے لیے ہر لمحہ اہمیت رکھتا ہے۔

تابکاری کی صورت میں خلیوں نقصان پہنچتا ہے  اور اسے ٹھیک کرنے کے لیے سائٹوکنز کی ترسیل ضروری ہوتی ہے، اور پوٹاشیم آیوڈائیڈ یا پرشین بلیو کا علاج تابکاری ذرات کو جسم سے نکالنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، مناسب صفائی جلد کے جلنے سے بچا سکتی ہے جو حادثے کے کئی دنوں بعد ظاہر ہو سکتی ہے۔

اگر کسی کو 4 گرے تابکاری کا سامنا ہوتو علاج نہ ہونے کی صورت میں اس کے مرنے کے امکانات 60 دنوں میں 50 فیصد تک پہنچ سکتے ہیں۔ گرے (Gy) وہ اکائی ہے جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ کسی شخص کو کتنی تابکاری ملی ہے، ایک گرے ایک کلوگرام بافتوں میں جذب ہونے والی تابکاری کی توانائی کے برابر ہوتا ہے۔

موجودہ تابکاری پیمائش کے طریقے پیچیدہ لیب تجزیہ یا مہنگے آلات پر انحصار کرتے ہیں، اور اس وجہ سے ایمرجنسی حالات میں تابکاری کی تشخیص کے عمل میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ ہیروشیما یونیورسٹی کے محققین نے ای بی ٹی 4 نامی ایک ریڈیئو کرومک فلم کو ایک فولڈ ایبل پورٹیبل اسکینر اور اسمارٹ فون کے ساتھ جوڑ کر تابکاری پیمائش کا ایک نیا طریقہ تیار کیا۔

یہ فلم تابکاری کے سامنے آتے ہی فوری طور پر رنگ بدل دیتی ہے۔ اگرچہ یہ تبدیلی آنکھوں سے دیکھنے میں آتی ہے، لیکن اس سے تابکاری کی سطح کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔ اسی لیے اسکینر اور فون کا استعمال کیا جاتا ہے۔

جب فلم رنگ بدل لیتی ہے، تو اسے اسکینر میں رکھ کر اس کا عکس اسمارٹ فون کی کیمرے سے لیا جاتا ہے۔

موبائل امیج پروسیسنگ ایپس کے ذریعے تابکاری کی سطح کی پیمائش کی جا سکتی ہے، جو 10 گرے تک کی درست پیمائش فراہم کرتی ہے۔ اس سے میدان میں تابکاری کا پتہ لگانا بہت سستا اور درست ہو جاتا ہے، اور متاثرہ افراد کو کلینیکل سیٹنگز میں لے جانے کی ضرورت نہیں رہتی۔

یہ نیا طریقہ سام سنگ اور ایپل دونوں اسمارٹ فونز کے ساتھ کامیابی سے آزمایا گیا ہے۔ تاہم  اب، محققین کی ٹیم اس طریقہ کو مختلف ماحولیاتی حالات میں بہتر کارکردگی کے لیے پروٹوکولز کو معیاری بنانے پر کام کر رہی ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ طریقہ ڈیسک ٹاپ اسکینرز کے ساتھ زیادہ بہتر کام کرتا ہے، تاہم ان کی کوشش تھی کہ ایک پورٹیبل سسٹم ڈیزائن کیا جائے۔ تاہم ان کا مقصد ایک ایسا نظام تیار کرنا تھا جو بدترین حادثات جیسے قدرتی آفات کے بعد جب انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچ چکا ہو، میں بھی کام کرسکے۔