اسلام آباد: سینیٹر افنان اللہ خان کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکریٹری نجکاری کمیشن عثمان باجوہ نے کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ رواں سال 24 سرکاری اداروں کی نجکاری کا عمل مکمل کیا جائے گا، جس میں تین بڑے ہوائی اڈے، پانچ ڈسکوز اور دو جینکوز شامل ہیں۔
سیکریٹری نجکاری کمیشن نے واضح کیا کہ اگر ڈسکوز کی نجکاری نہ کی گئی تو ہر سال 300 سے 400 ارب روپے کا مالی بوجھ حکومت پر پڑے گا، جبکہ مختلف سرکاری ادارے سالانہ تقریباً 900 ارب روپے کا نقصان کر رہے ہیں۔
اجلاس میں نجکاری کے عمل کو تیز کرنے اور کمیشن کی استعداد کار بڑھانے کے لیے وزیر اعظم کی ہدایات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
کمیشن کے پاس اس وقت چھ کنسلٹنٹس موجود ہیں اور مارکیٹ سے مزید بہترین کنسلٹنٹس کو بھی بھرتی کیا جائے گا تاکہ نجکاری کے عمل میں شفافیت اور تیزی یقینی بنائی جا سکے۔
پی آئی اے کی نجکاری پر بھی کمیٹی نے غور کیا۔ سینیٹر عمر فاروق نے پی آئی اے کے نجکاری طریقہ کار پر اعتراضات اٹھائے، تاہم چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پی آئی اے کے بڈرز کو کوئی رعایت نہیں دی گئی اور تمام درخواستیں نااہل قرار دینے کی بنیاد پر نہیں لیں گئیں۔
سیکریٹری نجکاری نے مزید بتایا کہ پی آئی اے کے بڈرز کی فنانشل مینجمنٹ یونٹ سے اسکروٹنی کرائی گئی اور ورلڈ بینک، ایف بی آر اور دیگر اداروں سے رپورٹس حاصل کی گئی ہیں تاکہ عمل شفاف ہو۔
سینیٹر افنان اللہ نے اجلاس میں بتایا کہ حکومت کا مجموعی بجٹ 17 ہزار ارب روپے ہے اور اگر نجکاری کے ذریعے صرف 900 ارب روپے بچا لیے جائیں تو یہ بڑا قدم ہوگا۔
اجلاس میں واضح کیا گیا کہ نجکاری پروگرام ملکی معیشت میں اصلاحات اور مالی بچت کے لیے کلیدی کردار ادا کرے گا۔


















