بدھ کے روز بلوچستان کے مختلف مقامات پر حملہ آوروں نے’’ہیرو 2.0‘‘ کے نام سے دہشت گرد حملوں کا ایک سلسلہ شروع کیا اور تواتر سے حملے کیے، تاہم پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے تمام مقامات پر فوری ردعمل دیتے ہوئے حملوں کو ناکام بنادیا، دہشت گردوں کو پسپا کر کے چند گھنٹوں میں کنٹرول واپس حاصل کر لیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ حملے فتنۂ ہندوستان (FAH) کے دہشت گرد نیٹ ورک نے کیے، جو بی ایل اے کی معاونت میں کام کرتا ہے۔ اس نیٹ ورک کی جانب سے بھارتی میڈیا اور FAH سے وابستہ ذرائع سے پروپیگنڈہ پھیلانے کے باوجود، یہ حملے کوئی اثر نہیں ڈال سکے۔
مختلف مقامات پر حملے، موثر جوابی کارروائی
کوئٹہ کے سریاب روڈ پر دہشت گردوں نے پولیس وین کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم پولیس اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے جوابی فائرنگ کی، جبکہ فرنٹیئر کور (FC) کے دستوں نے بھی فوراً مدد فراہم کی۔ اس کے نتیجے میں چار دہشت گرد مارے گئے اور علاقے کو محفوظ کر لیا گیا۔
اسی طرح نشک میں دہشت گردوں نے فرنٹیئر کور ہیڈکوارٹر پر فائر ریڈ کیا۔ الرٹ دستوں نے فوراً جوابی کارروائی کی جس سے حملہ آوربغیر کسی نقصان کے فرار ہونے پر مجبور ہوگئے۔
ڈال بندی میں بھی فرنٹیئر کور ہیڈکوارٹر پر حملے کی کوشش کی گئی، جہاں کم از کم دو دھماکے ہوئے۔ سیکیورٹی فورسز نے فوراً علاقے کو گھیر لیا اور حملہ آوروں سے مقابلہ کیا، تاہم صورت حال قابو میں رہی اور علاقے میں کلیئرنس کا عمل جاری رکھا گیا۔
کلات میں دہشت گردوں نے ڈپٹی کمشنر کے دفتر اور پولیس لائنز کو نشانہ بنایا، جس سے ایک فائر فائٹ ہوئی تاہم سیکیورٹی فورسز نے موثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آوروں کو نقصان پہنچایا اور کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا۔
اسی طرح مزید حملے پسنی میں رپورٹ ہوئے جہاں دہشت گردوں نے پاکستان کوسٹ گارڈز کی تنصیب پر دور سے فائرنگ کی کوشش کی اور گوادر میں مزدوروں کے ایک کالونی کو نشانہ بنایا۔ دونوں مقامات پر پولیس اور فرنٹیئر کور نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملوں کا ناکام بنا دیا۔
بلچہ، تمپ، مستونگ اور کیران میں بھی اسی طرح کی گرینیڈ اور دور سے فائرنگ کے حملے ہوئے، جنہیں کامیابی سے پسپا کر دیا گیا۔
صورتحال قابو میں
سیکیورٹی حکام نے تصدیق کی کہ بلوچستان میں مجموعی طور پر صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے، صرف 2 سے 3 سیکیورٹی اہلکار معمولی زخمی ہوئے۔ کسی بھی اسٹریٹیجک تنصیب کو نقصان نہیں پہنچا۔
یہ حملے حالیہ انسداد دہشت گردی آپریشنز کے بعد کیے گئے ہیں، جن میں بلوچستان بھر میں 50 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا تھا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تازہ حملے بھاری نقصانات کی تلافی کی ایک ناکام کوشش تھے۔
غیر ملکی دہشت گرد قیادت، مقامی نقصانات
ان حملوں کی ذمہ داری بشیر زب بلوچ، اللہ نذر اور جلاوطن حربيار مری پر عائد کی جاتی ہے، جو افغانستان جیسے محفوظ پناہ گاہوں سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں۔ بی ایل اے اور بی ایل ایف پاکستان کے قانون کے تحت ممنوعہ دہشت گرد تنظیمیں ہیں اور بی ایل اے کو امریکہ نے غیر ملکی دہشت گرد تنظیم (FTO) کے طور پر بھی درج کر رکھا ہے۔
سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جس طرح بی ایل اے کے قائدین غیر محفوظ مقامات پر ہیں، وہیں بلوچ نوجوانوں کو خود کش اور براہ راست حملوں میں دھکیلا ہے، جس کے نتیجے میں ان کی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ ناکام حملوں، داخلی اختلافات اور گروہی جھگڑوں میں ہونے والی ہلاکتوں کو بعد ازاں بی ایل اے اور بی ایل ایف سے جڑے پروپیگنڈہ نیٹ ورک جیسے بی وائی سی اور بی این ایم کی طرف سے ’’لاپتہ افراد‘‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
ان گروپ کا شہری مقامات پر حملوں کی طرف بڑھتا ہوا رجحان، جیسے مزدوروں کی بستیوں اور مخلوط آبادی والے علاقوں کو نشانہ بنانا، اس کی مجرمانہ نوعیت کو مزید بے نقاب کرتا ہے، جو اس کے بلوچ مفادات کے دفاع کے دعوؤں کی نفی کرتا ہے۔
‘ہیرو 2.0′ کی ناکامی
’’ہیرو 2.0‘‘ کے حوالے سے بڑھا چڑھا کر کیے گئے دعوؤں کے برعکس، نتیجہ کمزور منصوبہ بندی، ناقص عملدرآمد اور سیکیورٹی فورسز کے پیشہ ورانہ ردعمل کے سامنے جلد ہی بکھر کر رہ گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس مہم نے جہاں مسلح تشدد بے سود ثابت ہو وہی بلوچستان میں دہشت گرد نیٹ ورک کی بڑھتی ہوئی تنہائی کو واضح کیا۔
پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ تمام شہریوں، خصوصاً بلوچستان کے حساس علاقوں میں بسنے والی کمیونٹیز کے تحفظ کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گی اور صوبے میں غیر ملکی اسپانسرڈ دہشت گرد نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے متعین آپریشنز جاری رکھیں گی۔
جیسا کہ حکام نے کہا ہے، اصل احتساب بی ایل اے اور بی ایل ایف کی غیر ملکی دہشت گرد قیادت اور ان کے غیر ملکی سرپرستوں پر ہونا چاہیے، جن کی کارروائیاں بلوچ نوجوانوں کی جانیں لے رہی ہیں، اور بلوچستان کے عوام کو نہ تو کوئی ترقی مل رہی ہے اور نہ ہی راحت۔
پاکستان ہر طرح کی دہشت گردی کے خلاف متحد ہے۔
















