Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

امریکا، ایران مذاکرات میں پیشرفت، خلیج میں کشیدگی برقرار

من گھڑت میڈیا وار کے برعکس مذاکرات کے ڈھانچے پر عملی کام آگے بڑھ رہا ہے

ایران کے اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار علی لاریجانی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے فریم ورک کی تشکیل میں پیشرفت ہو رہی ہے۔

علی لاریجانی نے خلیج میں امریکی بحری تعیناتی کو خدشات کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا کہ من گھڑت میڈیا وار کے برعکس مذاکرات کے ڈھانچے پر عملی کام آگے بڑھ رہا ہے، تاہم انہوں نے تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بھی خبردار کیا کہ کسی بڑے تصادم سے ایران اور امریکا دونوں کو نقصان ہوگا، جبکہ ایرانی فوج نے کسی بھی حملے کی صورت میں بھرپور جواب دینے کی تیاری کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ خطے میں امریکی بحری بیڑے کی آمد کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں، تاہم دونوں جانب سے سفارتی راستہ کھلا رکھنے کے اشارے بھی دیے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: ایرانی فوج کودہشت گردقراردینا یورپ کی بڑی سیاسی واسٹریٹجک لغزش ہے، ایرانی وزیرخارجہ

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران امریکا سے سنجیدگی سے بات کر رہا ہے اور واشنگٹن چاہتا ہے کہ کوئی ایسا معاہدہ ہو جس میں ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے، مگر یہ واضح نہیں کہ تہران اس پر متفق ہوگا یا نہیں۔

صدر ٹرمپ نے خلیج کی جانب بڑھتے ہوئے امریکی بحری بیڑے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کے پاس طاقتور جہاز خطے میں موجود ہیں اور امید ہے ایران قابلِ قبول معاہدے پر آمادہ ہو جائے گا۔

اس سے قبل ٹرمپ ایران کو خبردار کر چکے ہیں کہ اگر مذاکرات سے انکار کیا گیا تو طاقت کے استعمال کا آپشن موجود ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے آبنائے ہرمز میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی مجوزہ بحری مشقوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کسی بھی غیر پیشہ ورانہ رویے کو خطرناک قرار دیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا ایرانی ساحلوں کے قریب رہتے ہوئے ایران کی مسلح افواج کو ہدایات دینے کی کوشش کر رہا ہے، جو کشیدگی کم کرنے کے بجائے بڑھاوا دیتی ہیں۔

علاقائی سطح پر قطر، ترکی، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے بھی امریکا اور ایران کے درمیان فوجی تصادم روکنے کے لیے سفارتی رابطے تیز کر دیے ہیں۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ سعودی عرب اپنی فضائی حدود یا سرزمین ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے

گا۔

متعلقہ خبریں