لاہور میں بسنت کے تہوار کو محفوظ بنانے کیلئے انتظامیہ نے سخت نگرانی اور آگاہی مہم تیز کر دی ہے۔ کمشنر لاہور مریم خان نے اندرون لاہور سمیت مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور موچی گیٹ میں پتنگوں اور ڈور کی خریدو فروخت کا تفصیلی جائزہ لیا۔
اس موقع پر پتنگوں اور ڈور کے پنوں پر لگے کیو آر کوڈز اور این او سیز کی بھی جانچ پڑتال کی گئی۔
کمشنر لاہور نے کہا کہ یکم فروری سے 8 فروری تک بسنت کیلئے خرید و فروخت کی اجازت ہے اور ہر سیل پوائنٹ کی سخت چیکنگ جاری رہے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے مطابق حفاظتی اقدامات کو سو فیصد یقینی بنایا جا رہا ہے۔
دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر لاہور کیپٹن (ر) علی اعجاز اور سی ٹی او لاہور ڈاکٹر اطہر وحید بھی کمشنر لاہور کے ہمراہ تھے۔ انتظامی افسران نے دہلی گیٹ اور موچی گیٹ کے علاقوں کا بھی دورہ کیا اور شہریوں میں بسنت ضابطہ اخلاق سے متعلق آگاہی پمفلٹس تقسیم کیے۔
کمشنر لاہور نے شہریوں کے موٹرسائیکلز پر سیفٹی راڈز کی تنصیب کا جائزہ لیا اور بسنت سیفٹی کیمپس کا دورہ کرتے ہوئے مختلف محکموں کی کارکردگی کا بھی معائنہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ شہر بھر میں قائم روڈ سیفٹی کیمپس صرف سیفٹی راڈز کی تنصیب کیلئے نہیں بلکہ ہر شہری کو آگاہی فراہم کرنے کیلئے بھی ہیں۔
کمشنر مریم خان نے کہا کہ چرخی، دھاتی اور نائیلون ڈور پر مکمل پابندی ہے اور خلاف ورزی پر انتہائی سخت کارروائی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام محکموں پر مشتمل کوئک ریسپانس ٹیمیں پورے شہر میں فعال ہو چکی ہیں اور شہری انتظامیہ کی مدد کریں، بسنت قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں فوری اطلاع دیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہریوں کا ذمہ دارانہ کردار محفوظ بسنت کیلئے سب سے اہم ہے اور بسنت قوانین پر مکمل عملدرآمد ہی اس ثقافتی تہوار کے حقیقی احیاء کا ذریعہ بنے گا۔
کمشنر لاہور کے مطابق پورے لاہور میں جاری آگاہی مہم کا مقصد بسنت فیسٹیول کے دوران محکموں اور شہریوں کے فرائض کو اجاگر کرنا ہے جبکہ تمام وفاقی، صوبائی اور ضلعی محکموں نے اپنے اپنے فرائض پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔


















