پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں اپنی شرکت کا اعلان کرکے ایک طرف دنیائے کرکٹ کو مطمئن کردیا تو دوسری طرف انڈیاکے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرکے آئی سی سی کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔
گزشتہ دو ہفتوں سے تجسس سے بھرپور ایک بحث اگر حتمی نتیجہ پر پہنچ گئ ہے تو اس کا نتیجہ بھارتی توقعات سے ہٹ کر سامنے آیا ہے جبکہ پاکستانی نکتہ نظر سے قدرے حد تک نرم فیصلہ ہے کیونکہ جغرافیائ سیاسی حالات کے بعد سب کو توقع تھی کہ پاکستان مکمل بائیکاٹ کرے گا لیکن جزوی طور پر شرکت نے ایک طرف دنیا کو ایک مثبت پیغام دیا ہے تو دوسری طرف بھارت کے طرز عمل پر احتجاج بھی ریکارڈ کرادیا ہے۔
مشکل فیصلہ میں تاخیر کیوں؟
بہت سے حلقوں اور بین الاقوامی میڈیا کی جانب سے سوال کیا جارہا ہے کہ جب دو ہفتے قبل بنگلہ دیش نے واضح طور پر اپنے بائیکاٹ کا اعلان کردیا تھا تو پاکستان نے کسی بھی فیصلہ تک پہنچنے میں اتنا وقت کیوں لیا ؟
اس سوال کا جواب بہت آسان ہے کیونکہ بنگلہ دیش نے ٹورنامنٹ کا بائیکاٹ واضح شواہد و دلیل کے ساتھ کیا تھا لیکن پاکستان کے لیے ممکن نہیں تھا کہ فوری اعلان کرتے پاکستان کے سارے میچ سری لنکا میں ہیں اور کسی ایک میچ یا پورے ٹورنامنٹ کا بائیکاٹ کرنے کے لیے واضح وجوہات درکار تھی.
چونکہ انڈیا پاکستان میں مداخلت اور دہشت گردوں کی پشت پناہی میں ملوث ہے جس کے تمام ثبوت پاکستان بارہابیں الاقوامی فورمز پر دے چکا ہے اس صورت میں پاکستان کے لیے قطعی ممکن نہیں تھا کہ وہ انڈیا کے ساتھ کوئ میچ کھیلے اور کافی غور و غوز کے بعد انڈیا سے میچ میں بائیکاٹ کا فیصلہ کیا گیا۔
بھارتی مشکلات اور ردعمل
بھارت نے اگرچہ ابھی تک اس فیصلہ پر کوئ رد عمل نہیں دیا ہے لیکن میزبان ملک کی حیثیت سے بھارت کے لیے یہ سبکی اور بے عزتی کی بات ہے کہ ایک ہمسایہ ملک بھارتی سازشوں کے باعث اس کے ساتھ کھیل کی سطح پر بھی کوئ تعلق نہیں رکھنا چاہتا۔
بھارتی حکومت کے سامنے بھی ایسی تجویز بارہا سامنے آئی کہ پاکستان کے ساتھ آئی سی سی ایونٹ میں میچ نہ کھیلا جائے لیکن اس پر عملدرامد نہ ہوا کیونکہ بھارتی حکومت ردعمل میں سخت مالی نقصان کا متحمل نہیں ہوسکتی تھی تاہم پاکستان جو اقتصادی طور پر انڈیا سے بہت پیچھے ہے اس نے نقصانات کی پرواہ کیے بغیر بائیکاٹ کا اعلان کرکے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے، یہ طرزعمل غیر متوقع اور بہت ہی زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔
آئی سی سی بھی پریشان
آئ سی سی کے لیے سب سے زیادہ پریشانی ہے کیونکہ براڈ کاسٹرز اور اسپانسرز کے ساتھ معاہدہ میں شامل ہے کہ پاکستان اور انڈیاکا میچ کھیلاجائے گاورنہ براڈکاسٹ قیمت کم ہوجائے گی کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ دیکھا جانے والا میچ پاکستان اور انڈیا کے درمیان 2024 کاورلڈکپ کا نیویارک کا میچ تھا۔
ہر آئ سی سی ایونٹ میں انڈیا پاکستان میچ اپنے ریونیو کے حساب سے پورے ٹورنامنٹ کا خرچہ پوراکردیتا ہے اور موجودہ ورلڈکپ کا میچ بھی ساری امیدوں کا مرکز ہے جو اب شاید نہ ہوسکے آئ سی سی کو اس میچ کے نہ ہونے پر کروڑوں ڈالر کا نقصان ہوگا جس سے پورے ایونٹ کو نقصان ہوگا۔
اگر پاکستان سیمی فائنل اور فائنل تک پہنچ کر بھی انڈیا کا بائیکاٹ کرتا ہے تو پورا ایونٹ ایک غیر معیاری ایونٹ کی شکل بن جائے گا شاید اسپورٹس کی تاریخ میں یہ پہلی دفعہ ہوگا جب ایک شیڈولڈ میچ کا بائیکاٹ کیا جائے۔
آئی سی سی نے ابھی تک کوئ ردعمل نہیں دیا ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ ایونٹ شروع ہونے سے پہلے ہی ناکامی کا شکار ہوچکا ہے آئی سی سی اس معاملے میں اسقدر بوکھلاگئ ہے کہ ایونٹ شروع ہونے میں فقط دو دن باقی ہیں لیکن کسی قسم کی تفصیلات میڈیا مصروفیات ٹیموں کی آمدورفت وغیرہ ابھی تک اندھیرے میں ہیں اور پاکستان کا تازہ ترین فیصلہ اسے مزید الجھادے گا۔
کیا پاکستان فیصلہ بدل سکتا ہے ؟
لوگوں کے ذہنوں میں سوالات ہیں کہ کیا پاکستان فیصلہ بدل سکتا ہے تو اس کا جواب تو مشکل ہے لیکن آئی سی سی اور دوسرے کرکٹ بورڈز پاکستان کو منانے کی کوشش کررہے ہیں کیونکہ اس میچ کے نہ ہونے سے دوسری ٹیموں کی آمدنی پر بھی فرق پڑے گا۔
جس وجہ سے انگلینڈ اور سری لنکا بورڈ نے پاکستان سے رابطہ کیا ہے لیکن پاکستان کا موقف واضح ہے کہ جب تک بنگلہ دیش کی درخواست نہیں مانی جاتی وہ فیصلہ نہیں تبدیل کرے گا اس کے علاوہ سرحد پار دہشت گردی اور مداخلت کے واضح ثبوت کے بعد بھی اگر بھارتی حکومت اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتی جب تک پاکستان ہر سطح پر بائیکاٹ جاری رکھے گا۔
پاکستان کے اس فیصلہ کے دور رس اثرات تو ہونگے لیکن وقتی طور بھی پاکستان اور اس کا موقف ساری دنیا کے سامنے آچکا ہے پی سی بی کے چئیرمین محسن نقوی کے دلیرانہ فیصلے نے ایک طرف اگر آئی سی سی سمیت تمام کرکٹ کھیلنے والے ممالک تک اپنا پیغام پہنچادیا ہے تو دوسری طرف پاکستانی قوم کو یکجا کردیا ہے۔
اس بائیکاٹ کی قیمت جتنی بھی ہو لیکن پاکستان کی عزت سالمیت اور دلیرانہ موقف سے زیادہ نہیں ہے پاکستان اپنی سرزمین پر ہونے والی دہشت گردی اور انڈیا کی ہٹ دھرمی کے بعد واضح انداز میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتا ہے اور یہ ممکن نہیں کہ آئی سی سی یکطرفہ فیصلے کرے۔
پاکستان کا یہ دلیرانہ فیصلہ تاریخ کا حصہ بن جائے گا اور آنے والا وقت اس پت مہر تصدیق ثبت کردے گا۔
سید حیدر


















