Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ایپسٹائن انکشافات کے بعد سابق برطانوی وزیر حکمران لیبر پارٹی سے مستعفی

لیبر پارٹی کو مزید شرمندگی سے بچانے کے لیے پارٹی رکنیت سے مستعفی ہو رہا ہوں، منڈل سن

سابق برطانوی وزیر پیٹر منڈل سن نے جیفری ایپسٹائن سے مبینہ تعلقات کے تازہ انکشافات کے بعد انھوں نے وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی لیبر پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

برطانوی میڈیا میں پیٹر منڈل سن کے استعفے کی وجہ امریکی سرمایہ دار جیفری ایپسٹائن سے ان کے مبینہ تعلقات کے تازہ انکشافات بتائے جا رہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق منڈل سن کو گزشتہ سال ایپسٹائن سے تعلقات کے پہلے انکشافات کے بعد واشنگٹن میں برطانیہ کا سفیر مقرر کرنے کے فیصلے کے بعد برطرف کیا گیا تھا۔

منڈل سن نے پارٹی کو خط میں کہا کہ وہ ایپسٹائن کے گرد پیدا ہونے والی “غیر متوقع ہلچل” کے سلسلے میں مزید شرمندگی نہیں چاہتے۔

مزید پڑھیں: برطانیہ میں الیکٹرک وینز کی اہداف سے کم فروخت، مستقبل پر سوالیہ نشان

انہوں نے واضح کیا کہ ایپسٹائن کی جانب سے ان کو مالی ادائیگی کے الزامات، جو امریکی محکمہ انصاف کی فائلز کی بنیاد پر برطانوی میڈیا میں سامنے آئے، بے بنیاد ہیں اور وہ خود ان کی تحقیقات کریں گے۔

منڈل سن نے کہاکہ اس دوران میں لیبر پارٹی کو مزید شرمندگی سے بچانے کے لیے پارٹی کی رکنیت سے مستعفی ہو رہا ہوں۔

منڈل سن نے 1990 کی دہائی میں ٹونی بلیئر کے دور میں لیبر پارٹی کی انتخابی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

ان کا سیاسی کیریئر پہلے بھی متنازعہ رہا ہے، جس میں 1998 میں ٹریڈ منسٹر کی حیثیت سے ایک قرضے کے تنازعے اور 2001 میں پاسپورٹ اسکینڈل شامل ہیں، تاہم بعد میں ان پر کوئی غیر قانونی کارروائی ثابت نہیں ہوئی۔

سابق وزیر، جو یورپی یونین کے سابق تجارتی کمشنر بھی رہ چکے ہیں، برطانیہ کی پارلیمنٹ کی اعلیٰ ایوان کے رکن کے طور پر رخصت پر ہیں۔

علاوہ ازیں، وزیراعظم اسٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ کے سابق پرنس اینڈریو کو ایپسٹائن سے تعلقات کے نئے انکشافات کے بعد امریکی کانگریس کے سامنے پیش ہونا چاہیے۔