سائنس دانوں نے ایک حیران کن دریافت کے ذریعے انسانی اور ممالیہ جانوروں کی منفرد سماعت کی ابتدا سے پردہ اٹھادیا ہے۔
امریکا کی شکاگو یونیورسٹی کے ماہرینِ ارضیات کی ایک نئی تحقیق کے مطابق وہ جسمانی ساخت جو آج انسانوں اور جدید ممالیہ کو مختلف آوازیں سننے کی صلاحیت دیتی ہے وہ ہماری توقع سے تقریباً پانچ کروڑ سال پہلے وجود میں آچکی تھی۔
یہ تحقیق ایک قدیم جانور تھرائنیگزوڈون لیورہائنس کے فوسل پر کی گئی جو تقریباً 25 کروڑ سال قبل ابتدائی ٹرائی ایسک دور میں پایا جاتا تھا یعنی ڈائنوسارز کے ظہور سے بھی پہلے۔
یہ جانور ایک ایسا مخلوق تھا جو چھپکلی اور لومڑی کے درمیان دکھائی دیتا تھا اور ممالیہ جانوروں کے قریبی آباؤ اجداد میں شمار ہوتا ہے۔
ماہرین نے اس جانور کی کھوپڑی اور جبڑے کے تفصیلی تھری ڈی ماڈلز تیار کیے اور جدید انجینیئرنگ سافٹ ویئر کی مدد سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ مختلف آوازوں کے دباؤ اور لہروں پر اس کے کانوں کی ہڈیاں کس طرح ردِعمل ظاہر کرتی تھیں۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ یہ جانور صرف جبڑے کی ہڈیوں کے ذریعے آواز سننے کے مرحلے سے آگے بڑھ چکا تھا اور اس میں پردۂ سماعت کی ابتدائی شکل موجود تھی۔
تحقیق کے مطابق ابتدائی ممالیہ نما جانوروں میں کان کی تین چھوٹی ہڈیاں جبڑے سے جڑی ہوتی تھیں جو بعد میں الگ ہوکر موجودہ ممالیہ کے درمیانی کان کی بنیاد بنیں۔
اس سے پہلے جانور ہڈیوں کے ذریعے ارتعاش کو دماغ تک پہنچاکر آواز محسوس کرتے تھے مگر تھرائنیگزوڈون میں پردۂ سماعت کے آثار اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ نظام ارتقائی تبدیلی کے اہم مرحلے میں داخل ہوچکا تھا۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس جانور کی سماعت کی حد تقریباً 38 سے 1243 ہرٹز تک ہوسکتی تھی جو اگرچہ انسانوں جتنی وسیع نہیں تھی مگر اس زمانے کے لیے ایک بڑی پیش رفت سمجھی جاتی ہے۔
یہ صلاحیت اسے شکار ڈھونڈنے، دشمنوں سے بچنے اور ممکنہ طور پر افزائشِ نسل میں بھی مدد دیتی تھی۔
یہ دریافت اس نظریے کو تقویت دیتی ہے کہ ممالیہ جانوروں کی جدید سماعت کا ارتقا ایک طویل اور تدریجی عمل تھا جس کی بنیاد لاکھوں سال پہلے رکھ دی گئی تھی۔




















