وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اہم اظہار خیال کرتے ہوئے بلوچستان میں جاری دہشت گردی، اسمگلنگ اور بیرونی مداخلت کے سنگین الزامات عائد کیے۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، جہاں موجود عناصر دہشت گردوں کو تعاون اور سہولت فراہم کر رہے ہیں۔
وزیر دفاع نے بلوچستان کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہاں بھارتی حمایت یافتہ پراکسیز موجود ہیں اور کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے نام پر جرائم پیشہ افراد تحفظ حاصل کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو روز میں 177 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ 33 شہری شہید ہوئے (جن میں سے زیادہ تر گوادر سے تعلق رکھتے ہیں) اور 17 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔
ایرانی تیل اسمگلنگ کو بلوچستان میں بڑے پیمانے پر جاری قرار دیتے ہوئے خواجہ آصف نے انکشاف کیا کہ ایران سے 40 روپے فی لیٹر تیل لا کر کراچی اور کوئٹہ میں 200 سے 240 روپے میں بیچا جا رہا ہے۔
اس سے روزانہ کرپشن اور اسمگلنگ کے ذریعے 4 ارب روپے کمائے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بیوروکریسی اور جرائم پیشہ افراد کا گٹھ جوڑ بن گیا ہے، کوئٹہ شہر کے وسط میں ایرانی تیل کے پمپ قائم ہیں جو سیاسی اور بیوروکریٹک سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسمگلنگ کو روکنے کے لیے حکومت سخت اقدامات کر رہی ہے، جس سے جرائم پیشہ عناصر کے کاروباری نقصانات ہوئے تو انہوں نے احتجاج اور تحریک چلا دی۔
یہ قوم پرست یا سیاسی تحریک نہیں بلکہ جرائم پیشہ لوگوں کی تحریک ہے جو محرومیوں کا بیانیہ بنا کر اپنے مفادات کی حفاظت کر رہے ہیں۔
بلوچستان کے حوالے سے وزیر دفاع نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا 40 فیصد رقبہ بلوچستان میں ہے، آبادی کم ہونے کی وجہ سے جرائم پیشہ عناصر فائدہ اٹھاتے ہیں۔
صوبے کو این ایف سی کے تحت 933 ارب روپے کا حصہ مل رہا ہے اور اسپتالوں، ڈسپنسریوں سمیت بڑی تعداد میں صحت مراکز موجود ہیں۔ تاہم سرکاری وسائل لوٹے جا رہے ہیں اور دہشت گردوں کے پاس 20-20 لاکھ روپے کی رائفلز ہیں۔
خواجہ آصف نے بھارت پر الزام لگایا کہ وہ کلبھوشن کو بلوچستان سے پکڑا گیا اور بلوچستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازشیں کر رہا ہے۔ انہوں نے خیبر پختونخوا میں بھی دہشت گردی کا سامنا ہونے کا ذکر کیا۔
آخر میں وزیر دفاع نے جذباتی اپیل کی کہ لڑائیاں اور اختلافات رکھیں مگر دہشت گردی کے خلاف متحد ہو جائیں۔ پارلیمنٹ کے تمام سیاستدان اختلافات بھلا کر ایک مؤقف پر اکٹھے ہوں کہ کرمنل گینگ کو سیاسی بیانیہ بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی، ریاست کی مکمل طاقت سے جواب دیا جائے گا۔ فساد فی الارض پھیلانے والوں سے مذہب بھی بات نہیں کرنے کا حکم دیتا ہے۔
















