Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

بلوچستان میں دہشت گرد حملوں میں بھارت اور غیر ملکی سہولت کاری بے نقاب

ہر دہشت گرد کو تقریباً بیس سے پچیس لاکھ روپے مالیت کے اسلحہ اور ساز و سامان سے لیس کیا گیا تھا

بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی ملکی استحکام کے خلاف ایک منظم بیرونی سازش کی کڑی قرار دی گئی ہے۔

شواہد سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان حملوں کے پس پردہ بھارت اور دیگر غیر ملکی عناصر کا گٹھ جوڑ اور سہولت کاری شامل ہے۔

ہلاک ہونے والے دہشت گردوں سے برآمد ہونے والا اسلحہ اور ساز و سامان غیر ملکی ساختہ ہے، جس کی مجموعی مالیت لاکھوں میں ہے۔

ہر دہشت گرد کو تقریباً بیس سے پچیس لاکھ روپے مالیت کے اسلحہ اور ساز و سامان سے لیس کیا گیا تھا۔

برآمد ہونے والے اسلحے میں M16 اور M4 رائفلز، راکٹ لانچرز، ایمنگ لیزر اور نائٹ ویژن گوگلز شامل ہیں، جبکہ دہشت گرد بیرونی ساختہ کمبٹ گیرز، بندولئرز، بلٹ پروف جیکٹس اور وائرلیس سیٹس سے بھی لیس پائے گئے۔

مزید برآں، ہلاک دہشت گردوں سے نشہ آور ادویات اور انجیکشن بھی برآمد ہوئے، جو ان کی بے حس کرنے والی صلاحیت میں استعمال کیے جاتے تھے۔

مزید پڑھیں: بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز جاری؛ 3 دن میں 177 دہشت گرد ہلاک

دفاعی ماہرین کے مطابق، احساس محرومی اور لاپتہ افراد کے جھوٹے بیانیے کے پیچھے یہ لاکھوں مالیت کا اسلحہ کون فراہم کر رہا ہے؟ یہ سوال شواہد کی روشنی میں اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

بھارت کے سیکیورٹی مشیر اجیت ڈوول کی پاکستان کو بلوچستان سے محروم کرنے کی دھمکی، اور اسرائیلی نژاد مورخ ڈاکٹر ہائم زیبنر کی تحقیقات، اس گٹھ جوڑ کو مزید بے نقاب کرتی ہیں کہ اسرائیل بلوچستان میں پاکستان کے خلاف دہشت گرد ملیشیا کی مدد کر رہا ہے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے حملے نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی سازشوں کا حصہ ہیں، جس سے علاقے کے امن و استحکام کو شدید خطرہ لاحق ہے۔

متعلقہ خبریں