بظاہر معمول کا کام سمجھے جانے والے دانت صاف کرنے کے دوران سری لنکا میں ایک شہری کو موت کے انتہائی قریب پہنچا دیا، اس وقعے نے سب کو چونکا کر رکھ دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق 63 سالہ ریٹائرڈ سرکاری ملازم پریم لال باتھ روم میں برش کررہے تھے کہ اچانک پھسل کر گرگئے۔
گرنے کے دوران ٹوتھ برش ٹوٹ گیا اور اس کا اگلا حصہ سیدھا ان کے حلق میں چلا گیا جس سے سانس لینے میں شدید مشکل پیدا ہوگئی اور جان کو فوری خطرہ لاحق ہوگیا۔
پریم لال نے بتایا کہ انہیں فوری طور پر قریبی نجی اسپتال لے جایا گیا، بعد ازاں سرکاری اسپتال بھی منتقل کیا گیا تاہم ابتدائی مرحلے میں ڈاکٹر ٹوٹے ہوئے برش کے حصے کا سراغ لگانے میں ناکام رہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ان کی حالت مزید خراب ہونے لگی، گلا بند ہونے لگا اور شدید کھانسی کے دوران خون بھی آنے لگا۔ بالآخر ایکسرے اور سی ٹی اسکین کے ذریعے یہ انکشاف ہوا کہ ٹوتھ برش کا ٹکڑا ابھی تک حلق میں موجود ہے۔

تشویشناک صورتحال کے پیش نظر انہیں گال شہر کے بڑے سرکاری اسپتال منتقل کردیا گیا، جہاں کان، ناک اور گلے کے ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نے ایک نہایت حساس آپریشن کیا۔
ڈاکٹروں کے مطابق برش کا ٹکڑا حلق کو نقصان پہنچاتے ہوئے ایک اہم شریان کے قریب جاپھنسا تھا جو کسی بھی وقت جان لیوا ثابت ہوسکتا تھا۔ کئی گھنٹوں کی محنت اور احتیاط کے بعد سرجری کامیاب رہی اور ٹوٹا ہوا ٹوتھ برش نکال لیا گیا۔
پریم لال تقریباً ایک ہفتہ اسپتال میں زیر علاج رہے جس کے بعد انہیں صحت یاب ہوکر گھر جانے کی اجازت دے دی گئی۔ اب وہ مکمل طور پر ٹھیک ہیں اور معمول کی زندگی گزار رہے ہیں۔
اس واقعے پر پریم لال کا کہنا تھا کہ یہ حادثہ ہر فرد کے لیے ایک سبق ہے کہ روزمرہ کے معمولی کام بھی اگر لاپرواہی سے کیے جائیں تو سنگین نتائج کا سبب بن سکتے ہیں۔
انہوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ زندگی کے ہر پہلو میں احتیاط کو اولین ترجیح دیں کیونکہ ایک لمحے کی غلطی پوری زندگی کو بدل سکتی ہے۔




















