بحرِ عرب ایک بار پھر عالمی کشیدگی کا مرکز بن گیا، جہاں امریکی بحریہ کے جدید ایف 35 سی فائٹر جیٹ نے ایرانی ڈرون کو مار گرا کر ایک بڑے ممکنہ تصادم کو ٹال دیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق ایرانی ڈرون نے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کی جانب جارحانہ انداز میں پیش قدمی کی، جس کے بعد اسے نشانہ بنایا گیا۔
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بین الاقوامی پانیوں میں پیش آیا، جہاں امریکی افواج نے پہلے صورتحال کو پُرامن طریقے سے سنبھالنے کی کوشش کی، مگر ڈرون نے انتباہی اقدامات کے باوجود اپنی پرواز جاری رکھی۔ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ڈرون کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔
مار گرایا گیا ڈرون شاہد 139 تھا، جسے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز سے اڑنے والے فائٹر جیٹ نے تباہ کیا۔ امریکی فوج کے مطابق اس کارروائی میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا، جبکہ بحری جہاز ایران کے جنوبی ساحل سے تقریباً 500 میل کے فاصلے پر موجود تھا۔
اسی دن ایک اور تشویشناک واقعے میں ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز نے آبنائے ہرمز میں امریکی پرچم بردار تجارتی جہاز اسٹینا امپیریٹو کو ہراساں کیا۔
امریکی حکام کے مطابق ایرانی کشتیاں اور ایک ڈرون تیز رفتاری سے جہاز کے قریب آئے اور اسے قبضے میں لینے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔
امریکی حکام نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ دونوں واقعات آپس میں منسلک ہیں یا نہیں، تاہم خطے میں بڑھتی ہوئی یہ سرگرمیاں امریکا اور ایران کے درمیان ایک نئی خطرناک کشیدگی کی علامت قرار دی جا رہی ہیں۔




















