وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی صلاحیتوں میں کسی سے کم نہیں۔ جے ایف 17 طیارے بنانے کی صلاحیت رکھنے والا ملک، اب ویکسین کی مقامی تیاری کے لیے بھی تیار ہے۔
مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرنس میں زور دے کر کہا کہ ہم نیوکلیئر طاقت ہیں، جے ایف 17 بنایا تو ویکسین بھی بنا سکتے ہیں
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں حکومت شہریوں کو 13 اقسام کی ویکسین مفت فراہم کر رہی ہے، تاہم یہ ویکسینیں ملک میں تیار نہیں ہوتیں اور ان پر ہر سال تقریباً 400 ملین امریکی ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ پاکستان کی آبادی تقریباً 24 کروڑ ہے اور یہاں ہر سال تقریباً 62 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں۔ ویکسین کی درآمد میں بین الاقوامی شراکت دار 49 فیصد مالی تعاون فراہم کرتے ہیں جبکہ حکومت خود 51 فیصد لاگت برداشت کرتی ہے، جس کے باوجود مالی بوجھ کم نہیں کہا جا سکتا۔
وزیر صحت نے تنبیہ کی کہ اگر مقامی سطح پر ویکسین تیار نہ ہوئی تو 2031 تک سالانہ لاگت 1.2 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی، جو قومی معیشت پر بھاری بوجھ ڈالے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس خطرے کے پیشِ نظر مقامی ویکسین کی تیاری کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں، تاکہ بین الاقوامی امداد ختم ہونے سے پہلے ملکی استعداد پیدا ہو جائے۔
مصطفیٰ کمال نے جنگ کے دوران ویکسین کی درآمد رک جانے کی مثال دی اور کہا کہ پاکستان مستقبل میں خود ویکسین تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ان کے مطابق سعودی عرب پچھلے 10 سال سے ویکسین تیار کر رہا ہے جبکہ انڈونیشیا ہر سال دو ملین ڈوز پیدا کر رہا ہے۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ہم نیوکلیئر طاقت ہیں، ہم نے جے ایف 17 بنایا تو ویکسین بھی بنا سکتے ہیں۔ مقامی ویکسین کی تیاری سے نہ صرف مالی بوجھ کم ہوگا بلکہ ملکی صحت کے شعبے میں خود انحصاری بھی یقینی بنے گی۔


















