چین کے شہر شنگھائی میں تین ماسٹرز ڈگریاں رکھنے والے ایک شخص نے اپنی پرتعیش زندگی کو خیرباد کہہ کر برتن دھونے کا کام شروع کر دیا ہے۔
ژاؤ دیان نامی یہ شخص، جو چین، آسٹریلیا اور فرانس سے اعلیٰ تعلیمی ڈگریاں حاصل کر چکا ہے، پہلے پیرس میں ایک مالی ادارے میں انٹرن کے طور پر کام کرتا تھا۔
ژاؤ دیان کا تعلق ایک امیر خاندان سے ہے، اور اس کے والد تعمیراتی سامان کے کامیاب تاجر ہیں۔ اس کا خاندان شنگھائی میں ایک شاندار بنگلے میں رہتا ہے جس میں نجی لفٹ بھی نصب ہے۔ اس کے والدین اکثر برطانیہ گالف کھیلنے کے لیے سفر کرتے ہیں۔
مگر ژاؤ دیان نے اپنی زندگی کے اس پرتعیش حصے کو ترک کر دیا اور اب وہ چین کے صوبہ یونان کے شہر ڈالی میں کانگ پہاڑ کے دامن میں رہنے والے مقامی لوگوں کے درمیان ایک بوسیدہ جھونپڑی میں رہتا ہے۔ اس نے اپنی زندگی کے اخراجات کو انتہائی معمولی رکھا ہے، اور ماہانہ صرف 100 یوآن (تقریباً 14 امریکی ڈالر) خرچ کرتا ہے۔ وہ دن میں دو وقت کا کھانا کھاتا ہے، جن میں سے ایک کھانا ایک مقامی ٹیمپل سے مفت سبزیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی جنریٹڈ جڑواں بہنیں انٹرنیٹ پر وائرل
ژاؤ کی جھونپڑی سرخ کپڑے سے بنی ہوئی ہے، جس میں جگہ جگہ سوراخ ہیں اور بارش ہونے پر پانی ٹپکنے لگتا ہے۔ وہ 15 کلوگرام وزنی بیگ اٹھا کر بازار سے 80 یوآن میں خریدے گئے پرانے جوتے پہنے دیکھے جاتے ہیں۔
ژاؤ نے بتایا کہ وہ اشرافیہ کے سماجی طور طریقوں سے پریشان تھا اور لگژری سفر سے بھی اکتا چکا تھا۔ وہ بیرون ملک تعلیم حاصل کر رہا تھا اور جب اس کا پیسہ ختم ہو جاتا تھا تو وہ اپنے گھر سے 7,000 امریکی ڈالر منگواتا، اور زیادہ تر رقم اپنی گرل فرینڈ پر خرچ کر دیتا تھا، جبکہ خود ایک مشترکہ اپارٹمنٹ میں صوفے پر سوتا تھا۔
پیرس میں کام کرتے ہوئے ژاؤ ڈپریشن کا شکار ہو گیا اور اس نے تین ماہ تک تنہائی میں ویڈیو گیمز کھیلتے ہوئے گزارے۔ پھر اس نے ایک چینی ریسٹورنٹ میں برتن دھونے کی نوکری شروع کی، جس سے اس کی زندگی بدل گئی۔ اب وہ روزانہ 11 گھنٹے سنک پر کام کرتا ہے، اور اس کا کہنا ہے کہ جسمانی تھکاوٹ سے اسے ذہنی سکون حاصل ہوا ہے۔
ژاؤ دیان نے اپنے فیصلے کو ایک نیا آغاز قرار دیا ہے، جس میں اس نے مادی دنیا کی لگژری کو چھوڑ کر سادگی اور سکون کی طرف قدم بڑھایا ہے۔




















