دنیا بھر میں انسان نما روبوٹ تیار کیے جارہے ہیں اور ہرایک کا دعویٰ ہے کہ ان کی تخلیق انسانوں سے قریب ترین ہے تاہم چین اس ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک بار پھر دنیا پر سبقت لے گیا۔
شنگھائی کی روبوٹکس اسٹارٹ اپ کمپنی ڈروئیڈ اپ جسے زوئیڈ بھی کہا جاتا ہے نے ایک ایسا روبوٹ تیار کیا ہے جو انسان سے کافی مماثلت رکھتا ہے، اس ماڈل کو مویا کا نام دیا گیا ہے، جسے شنگھائی کے ایک روبوٹک ویلی میں پیش کیا گیا۔
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ دنیا کا پہلا بایونک روبوٹ ہے جو خوبصورتی اور جذبات کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے اور ہو بہوانسان کی طرح حرکات کرتا ہے۔
مویا ایک ماڈیولر بایونک پلیٹ فارم آرکیٹیکچر پر بنایا گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس میں بے حد لچک ہے اگر صرف سر ہی کی بات کی جائے تو وہ کئی قسم کے جذبات جیسے خوشی، غصہ، غم کو سر کے ساتھ آنکھوں سے ظاہر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ روبوٹ سیرابیلر موٹر کنٹرول ماڈل سے لیس ہے اور چلنے پھرنے اور مڑنے کی حرکتیں نہایت ہموار اور خوبصورت ہیں۔
مویا کو انسانی جسم سے قریب ترین بنانے کے لیے درجہ حرارت کنٹرول فراہم بھی کیا گیا ہے، اس کی جلد میں حقیقی جلد اور اس کے نیچے چربی و پٹھے دیے گئے جو چھونے پر انسان کی طرح نرم اور گرم محسوس ہوتے ہیں، مویا کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اس کی جلد کا درجہ حرارت 32-36 کے درمیان رہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جسم کے مخصوص مقامات پر دوا پہچانے والا روبوٹ تیار
تخلیق کارکا کہنا ہے کہ مویا کے چلنے کی درستگی 92 فیصد انسانی جیسی ہے، تاہم 8 فیصد کی کمی کا اندازہ ہو جاتا ہے۔
تاہم اس کی سب سے بڑی خوبی انسانوں کے ساتھ بات چیت کرنے میں ہے، جہاں وہ سامنے والے کےساتھ آنکھوں کا رابطہ برقرار رکھتے ہوئے مسکرا کر جواب دیتی ہے، سر ہلاتی ہے اور چہرے کے عضلات کی ان ذیلی حرکات کو ظاہر کرتی ہے جو ہم اکثر بغیر سوچے سمجھے کرتے ہیں، مویا کی آنکھوں کے پیچھے ایک کیمرا نصب ہے، جو اے آئی کے ساتھ مل کر اس کو انسانی ’’مائیکرو ایکسپریشنز‘‘ کرنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔
اگر آپ بھی اس مویا روبوٹ کو حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو کم از کم تقریباً 173,000 امریکی ڈالر درکار ہوں گے، اور کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ جب وہ اس سال مارکیٹ میں آئے گی، تو یہ زیادہ تر ہیلتھ کیئر اور تعلیم کے اداروں کے لیے مخصوص ہو گی۔




















