Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

تنازعات سے بھرپور ورلڈکپ کا خاموشی سے آغاز

افتتاحی تقریب سے عاری ورلڈکپ کا کپتانوں کا روایتی دن بھی متنازع رہا اور دو ممالک میں ہونے کے باعث ٹیمیں تقسیم ہو گئیں۔

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کو اگر اس صدی کاسب سے دلچسپ اور سنسنی خیز کھیل کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا  کھیل کی تیزی اور تماشائیوں کا جوش وخروش اس کھیل کے انداز کو ایک ایسی زندگی عطا کرتاہے کہ دیکھنے والا مہبوت ہوجائے۔

گزشتہ جتنے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ ہوئے ان کا شور شرابااور ہنگامے سے ایسالگتا تھا کہ سوائے کرکٹ کے اس وقت کچھ بھی نہیں ہے پہلا ورلڈکپ ساؤتھ افریقہ میں جب منعقد ہوا تو یہ پہلا سال تھا اور جوش و ولولہ کم تھا لیکن اس نے بہت جلد ہر ایک کو اپنے سحر میں جکڑ لیا۔

2022 کے ورلڈ کپ میں جب ملبورن میں پاکستان اور انڈیاکے درمیان میچ ہورہاتھا تو ایک لاکھ کا مجمع اسٹیڈیم میں جبکہ کروڑوں لوگ ٹی وی پر دیکھ رہے تھے  فسوں کا یہ عالم تھااس میچ کے اختتام تک ہر ایک کی نظر کھیل پر تھی۔

اسی طرح جتنے بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ ہوئے ان کاآغاز شاندار اور گرمجوشی سے بھرپور تھا، لیکن موجودہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اپنے آغاز سے قبل ہی تنازعات کاشکار ہوگیا جس سے اس کی مقبولیت اور دلچسپی میں بھی کمی واقع ہوگئی۔

بنگلہ دیش کا انخلا اس ایونٹ کاسب سے تاریک پہلوہے  ایک ملک جو باقاعدہ ٹیسٹ کرکٹ کھیلتا ہے اور متعدد آئی سی سی ایونٹس کراچکا ہے اس ورلڈکپ میں غیر متعلق ہوگیا ہے۔

 اسی طرح انڈیا میں سیکیورٹی مسائل کے باعث اس کا انکار آئی سی سی کو پسند نہیں آیااور خوش اسلوبی سے حل کرنے کے بجائے آئی سی سی نے سردمہری سے کام لیا  اور ایک ایسی ٹیم کو باہر کردیا جس کے ناظرین اور مداحوں کی تعداد 30 کروڑکے لگ بھگ ہے۔

  حالانکہ بنگلہ دیش کا مطالبہ پاکستان اور بھارت کے مطابق ہے جو پہلے ہی ایک دوسرے کے ملکوں میں کھیلنے سے انکار کرچکے ہیں اور آئی سی سی نے تسلیم بھی کیا ہے  لیکن ٹائیگرز کے لیے آئی سی سی نے متضاد رویہ اختیار کیا۔

یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی کا بھارت کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرنے پر پی سی بی کو انتباہ

7  فروری سے شروع ہونے والا ٹورنامنٹ عجیب زبوں حالی کا شکار ہے  اس افتتاحی تقریب سے عاری ورلڈکپ کا کپتانوں کاروایتی دن بھی متنازعہ رہا  دو ممالک میں ہونے کے باعث ٹیمیں تقسیم ہوگئی،  ایک بنیادی تقریب جو کپتانوں کے اتحاد اور یکجہتی کی علامت ہوتی ہے اب نفاق کا دروازہ بن گئی ہے۔

پاکستان کی خاموشی یا نیم رضامندی

پاکستان نے واشگاف الفاظ میں بھارت کے ساتھ میچ کے بائیکاٹ کااعلان کیا ہے  جو حکومت پاکستان کے سرکاری سوشل میڈیاایکس ہینڈل سے کیا گیا، تاہم آئی سی سی کے مطابق پی سی بی نے ابھی تک باقاعدہ طور پر آئی سی سی کو مطلع نہیں کیا ہے۔

میزبان سری لنکا بورڈ بھی پریشان ہے کہ کیایہ میچ ہوگا یا نہیں کیونکہ اس میچ کے لیےدس ہزار انڈینزنے ہوٹلز کی بکنگ کی ہے جبکہ اس میچ کے تمام ٹکٹ فروخت ہوچکے ہیں  ٹکٹ خریدنے والے افراد ایک کشمکش میں گرفتار ہیں کہ سفر کریں یا نہیں۔

دوسری طرف غیر مصدقہ اطلاعات ہیں کہ آئی سی سی غیر روایتی طریقوں سے پاکستان کو بائیکاٹ سے باز رکھنے کی کوشش کررہا ہے جن میں دو آئی سی سی ایونٹس پاکستان کو دینے اور میچ شئیر بڑھانے کی بات کی ہے  تاہم ابھی تک پی سی بی خاموش ہے لیکن ایک سرکاری مراسلہ ابھی تک آئی سی سی کو نہیں گیا ہے، ایسا لگتا ہے کہ پی سی بی اس موقع پر اپنے سارے مطالبات منوالینا چاہتا ہے  لیکن کیا اپنے فوائد حاصل کرنے سے بنگلہ دیش کی اصولی حمایت کو داغ نہیں لگ جائے گا؟

انڈیا کو اس وقت دوہری پریشانی ہے ایک پہلے میچ کا نقصان اور پھر سپر ایٹ اور ناک آؤٹ مرحلہ میں مزید نقصان۔

سب سے بڑی پریشانی فائنل کی ہے اگر پاکستان فائنل میں پہنچ گیا تو انڈیاکے سو کروڑ لوگ صرف ٹی وی پر میچ دیکھ سکیں گے  اربوں ڈالر کے ایک ایونٹ کا یہ بدترین حال کہ کچھ بھی یقینی نہیں۔

پاکستان ٹیم اس وقت جتنی خبروں میں ہے اتنی کوئی اور ٹیم نہیں، ہر ایک کا ایک ہی سوال ہے کیا پاکستان کھیلے گا ؟  سلمان علی آغا کو سختی سے زبان بند رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔

پاکستان ٹیم  بہرحال اپنے تمام سازوسامان کے ساتھ کولمبو پہنچ چکی ہے  ٹیم مکمل تیار اور آمادہ ہے کہ سارے میچ کھیلے گی۔

پاکستان 7 فروری کو کولمبو میں نیدرلینڈز کے خلاف اپنا پہلا میچ کھیلے گا،  پاکستانی وقت کے مطابق صبح ساڑھے دس بجے ہونے والا یہ میچ ایونٹ کا افتتاحی میچ ہے اسکے فوری بعد اسکاٹ لینڈ اور ویسٹ انڈیز کولکٹہ میں جبکہ انڈیا امریکہ کے ساتھ ممبئ میں میچ کھیلے گا۔

پاکستان ٹیم کے لیے اگرچہ یہ ایک آسان میچ ہے لیکن کپتان سلمان علی آغا کا کہنا ہے کہ وہ اس میچ کو بہت سنجیدگی سے لے رہے ہیں کیونکہ نیدرلینڈز دو سال قبل ساؤتھ افریقہ کو ہراچکی ہے پاکستان ٹیم پہلے میچ میں کوئی تجربہ نہیں کرے گی۔

میچ میں صائم ایوب اور فرحان اوپنرز ہونگے جبکہ سلمان علی آغا تیسرے اور بابر اعظم چوتھے نمبر پر بیٹنگ کریں گے، عثمان خان شاداب خان اور محمد نواز مڈل آرڈر میں ہونگے فہیم اشرف شاہین شاہ آفریدی نسیم شاہ اور اسپنر ابرار احمد ہونگے  فخر زمان کو نواز کی جگہ کھلایا جاسکتاہے۔

پاکستان اپنی مضبوط ترین ٹیم کھلائے گا 

نیدرلینڈز کی ٹیم میں ان کے کپتان آسٹریلین نژاد اسکاٹ ایڈورڈز سب سے اچھے بلے باز ہیں ان کے علاوہ ایکرمین اور بس دی لیڈے بھی اچھے بلے باز ہیں بولنگ میں سب سے خطرناک ساؤتھ افریقن نژاد دان میروے ہیں وہ اس ایونٹ کے معمر ترین کھلاڑی ہیں ان کی اسپن بولنگ مشکلات پیداکرے گی۔

بظاہر یہ ایک یکطرفہ اور غیر دلچسپ میچ ہوگا جس میں ایک انتہائی طاقتور حریف کا طفل مکتب ٹیم سے مقابلہ ہوگالیکن پاکستان کی گزشتہ ورلڈکپ میں امریکہ کے ہاتھوں شکست نے ہر ناممکن کو ممکن بنادیا ہے۔

پاکستان کے گروپ میں اس کے علاوہ امریکہ اور نمیبیا بھی ہیں اس لیے اگر پاکستان بھارت کے ساتھ میچ کا بائیکاٹ کرتا ہے تو اسے باقی تمام میچ بھاری مارجن سے جیتنا ہونگے تاکہ سپر ایٹ مرحلے میں مشکل پیش نہ آئے۔

ورلڈکپ کے تمام میچ ایک طرف اور 15 فروری کو بھارت سے میچ ایک طرف نے ہر نظر اس میچ پر لگادی ہے  اور ہر ایک کو اس کاشدت سے انتظار ہے۔