ایک نئی سائنسی تحقیق کے مطابق زمین کی جانب آنے والے سیارچے کو جوہری دھماکے کے ذریعے موڑنا ممکن ہوسکتا ہے۔
اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سیارچے معمولی توقعات کے برعکس انتہائی دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور شدید اثر پڑنے پر وہ مزید مضبوط بھی ہوجاتے ہیں۔
یہ دریافت سیارچے کے دفاع کے منصوبوں کے لیے خوش آئند ہے کیونکہ اگر نیوکلیئر دھماکہ کیا جائے تو سیارچہ ٹوٹ کرکئی چھوٹے ٹکڑوں میں نہیں بکھرے گا بلکہ یہ اپنی شکل برقرار رکھے گا اور صرف اپنے راستے کو بدل لے گا۔
تحقیق میں یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے ماہرین اور ایک نجی ادارے نے تعاون کیا۔ انہوں نے لوہے سے بنے ایک سیارچے کے نمونے کو انتہائی توانائی والے ذرات سے ٹکرایا تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ شدید دباؤ میں اس کا اندرونی ڈھانچہ کیسے بدلتا ہے۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ نمونہ ابتدا میں نرم ہوا، پھر لچکدار ہوا اور آخر میں حیران کن طور پر مزید مضبوط ہوگیا۔
ماہرین نے یہ بھی دریافت کیا کہ جتنا زیادہ اثر ڈالا جائے سیارچہ توانائی کو اتنا ہی بہتر طریقے سے جذب کرتا ہے، یعنی وہ زیادہ دباؤ برداشت کرنے کے قابل بن جاتا ہے۔
یہ خصوصیت سائنسی ماڈلز میں پائی جانے والی خامیوں کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے جو پہلے سیارچوں کے ٹوٹنے یا شکل بدلنے کے حقیقی مشاہدات سے مختلف نتائج دیتے تھے۔
ماہرین کے مطابق نیوکلیئر دفاع کا طریقہ فلموں کی طرح نہیں ہوگا۔ سیارچے کو دھماکہ خیز مواد سے بھرا نہیں جائے گا بلکہ سیارچے کے قریب دور سے دھماکہ کرکے اس کے کچھ حصے کو بخارات میں بدل کر اس کے مدار کو زمین سے ہٹایا جاسکتا ہے۔
تحقیق کے اہم مقاصد میں یہ جاننا بھی شامل ہے کہ مختلف اقسام کے سیارچے دباؤ اور توانائی کو کس طرح برداشت کرتے ہیں تاکہ زمین کے قریب خطرے کی صورت میں انسانیت کے پاس محفوظ اور موثر دفاعی منصوبہ موجود ہو۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ کام زیادہ تر نظریاتی ہے اور حقیقی تجربہ نہیں کیا جاسکتا لیکن مستقبل میں زمین کو ممکنہ تباہ کن سیارچوں سے بچانے کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ مواد اور طبیعیاتی معلومات کی بنیاد پر منصوبہ بنایا جائے۔




















