Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

افغان طالبان رجیم میں معاشی بحران عروج پر، سرمایہ کار خوفزدہ

افغان  طالبان رجیم کے مستحکم معیشت و سرمایہ کاری کے غیر حقیقی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے

اقوام متحدہ نے رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق افغان طالبان رجیم میں معاشی بحران عروج پر ہے جس سے سرمایہ کار خوفزدہ ہیں۔

تفصیلات کے مطابق افغانستان میں معیشت تباہی کے دہانے پر ہے۔ طالبان رجیم کے ترجیحات دہشتگردوں کی حمایت و سرپرستی پر مرکوز ہے۔

افغان طالبان کی پالیسیوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو زمین بوس کر دیا جس کی وجہ سے معیشت زوال پزیر ہے۔

افغان  طالبان رجیم کے مستحکم معیشت و سرمایہ کاری کے غیر حقیقی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق افغان طالبان رجیم  کی انتہا پسند پالیسیوں کی وجہ سے سرمایہ کار خوفزدہ ہیں اور سرمایہ کاری میں زبردست کمی واقع ہوئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ افغان رجیم کی سخت گیر پالیسیوں نے شفافیت دفن کر دی، جبکہ سالانہ 5 ارب ڈالر (غیر قانونی) ہوالہ ہنڈی میں جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

مزید برآں افغان رجیم کی ناکام معاشی پالیسیوں کے باعث بینکنگ رسائی انتہائی محدود ہے، صرف 6 فیصد آبادی کے پاس بینک اکاؤنٹ موجود ہے۔

رپورٹ کے مطابق غاصب طالبان رجیم سے بچنے کیلیے 16لاکھ  سے زائدشہری ملک چھوڑ چکے ہیں، برین ڈرین عروج پر ہے، طالبان رجیم کی خواتین پر تعلیم و ملازمت پر پابندیوں نے معیشت کا بحران مزید گہرہ کردیا۔

بین الاقوامی ماہرین کے مطابق دہشتگردی کی سرپرستی کے سہارے کوئی معیشت نہیں چل سکتی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان رجیم کو دہشتگرد گروہوں کی حمایت ترک کر کے فوری طور پر افغانستان کی بگڑتی معیشت کو سنبھالنے پر توجہ دینا ہوگی۔

متعلقہ خبریں