ڈھاکا: بنگلا دیش میں عام انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل جاری ہے، جہاں سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں، بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور جماعت اسلامی کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے۔
بنگلا دیش کے الیکشن کمیشن کے مطابق ملک بھر میں 299 حلقوں میں پولنگ کا آغاز مقامی وقت کے مطابق صبح 7:30 بجے ہوا جو شام 4:30 بجے تک جاری رہے گا۔
انتخابات میں 12 کروڑ 90 لاکھ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے، جن میں 44 فیصد نوجوان ووٹرز شامل ہیں، جس کے باعث نوجوانوں کا کردار فیصلہ کن قرار دیا جا رہا ہے۔
بنگلا دیش کی 300 پارلیمانی نشستوں پر مختلف سیاسی جماعتوں کے امیدوار میدان میں ہیں، جن میں بی این پی، جماعت اسلامی، نیشنل سٹیزن پارٹی اور جماعتی پارٹی سمیت دیگر شامل ہیں جبکہ حکومت بنانے کے لیے 151 نشستوں پر اکثریت حاصل کرنا لازمی ہے۔

ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے صاحبزادے طارق رحمان بی این پی کی جانب سے وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار ہیں جبکہ جماعت اسلامی کے شفیق الرحمان کو بھی مضبوط امیدوار تصور کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب شیخ حسینہ واجد کا اگست 2024 میں تختہ الٹنے میں اہم کردار ادا کرنے والے جین زی پر مشتمل نیشنل سیٹیزن پارٹی بھی جماعت اسلامی کے اتحاد میں شامل ہیں۔
ووٹ کاسٹ
میڈیا رپورٹس کے مطابق جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان، بنگلادیش نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ طارق رحمان اور جین زی پر مشتمل نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے کنوینر ناہید الاسلام نے ووٹ کاسٹ کردیا ہے۔
پولنگ اسٹیشن پر دستی بم دھماکا
بنگلادیشی میڈیا رپورٹس کے مطابق دارالحکومت ڈھاکا کے ضلع گوپال گنج میں پولنگ اسٹیشن پر ہونے والے دستی بم دھماکے میں 3 افراد زخمی ہوگئے جبکہ دھماکے سے پولنگ اسٹیشن کے مرکزی دروازے کو جزوی نقصان پہنچا۔
انتخابات میں تاریخی ٹرن آؤٹ کا امکان
الیکشن کمیشن نے بتایا ہے کہ انتخابات میں تاریخی ٹرن آؤٹ کا امکان ہے۔ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے فوج اور پولیس سمیت 3 لاکھ اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ کمیشن نے یقین دہانی کرائی ہے کہ انتخابات منصفانہ اور شفاف ہوں گے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق بنگلا دیش میں 50 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہیں جبکہ اراکینِ پارلیمنٹ کے منتخب ہونے کے بعد وزیراعظم کا انتخاب کیا جائے گا۔
اس موقع پر چیف الیکشن کمشنر نے عوام کے نام پیغام میں کہا کہ آج کے انتخابات بنگلا دیش کی تاریخ کے نہایت اہم ترین انتخابات ہیں۔
انہوں نے سیاسی جماعتوں، امیدواروں اور ووٹرز سے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں اختلافِ رائے فطری عمل ہے اور تمام فریقین کو انتخابی نتائج کو جمہوری انداز میں قبول کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
’’عام انتخابات کے ساتھ ساتھ جولائی نیشنل چارٹر پر ریفرنڈم بھی ہوگا‘‘
بنگلا دیشی میڈیا کے مطابق عام انتخابات کے ساتھ ساتھ جولائی نیشنل چارٹر پر بھی ریفرنڈم کیا جارہا ہے، جس کے لیے ووٹرز کو دو بیلٹ پیپرز دیے جائیں گے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سفید بیلٹ پیپر پر ووٹرز اپنے حلقے کے نمائندے کے انتخاب کے لیے ووٹ دیں گے جبکہ گلابی بیلٹ پیپر پر جولائی نیشنل چارٹر کی حمایت یا مخالفت میں ووٹ کاسٹ کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ جولائی نیشنل چارٹر میں 32 سیاسی جماعتوں نے آئینی اصلاحات کے لیے مشترکہ ایجنڈا پیش کیا تھا، جسے ریفرنڈم کے ذریعے عوامی تائید حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔



















