ان دنوں ایک رجحان تیزی سے پھیل رہا ہے جس میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ روزانہ ایک پیالی سادہ گرم پانی پینے سے وزن کم ہوتا ہے، جلد صاف ہوتی ہے، گلے کی تکلیف دور ہوتی ہے اور ماہواری کے درد میں کمی آتی ہے۔
اسے ایک سادہ اور قدرتی نسخہ قرار دیا جارہا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ دعوے سائنسی بنیاد رکھتے ہیں؟، گرم مگر کم اُبلا ہوا پانی پینا عموماً محفوظ ہے اور بہت سے افراد اسے سکون بخش قرار دیتے ہیں۔
تاہم موجودہ تحقیق یہ ثابت نہیں کرتی کہ گرم پانی عام درجہ حرارت یا ٹھنڈے پانی کے مقابلے میں اضافی طبی فوائد رکھتا ہے۔ اصل اہمیت جسم کو تر رکھنے کی ہے، نہ کہ پانی کے درجہ حرارت کی۔
پانی زندگی کے لیے ناگزیر ہے۔ مناسب مقدار میں پانی پینا نظامِ ہضم، دورانِ خون، گردوں کے افعال اور فشارِ خون کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ حالیہ مطالعات سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ پانی کی کمی روزمرہ ذہنی دباؤ کو برداشت کرنا مشکل بناسکتی ہے۔
مفروضہ 1: گرم پانی سے وزن کم ہوتا ہے
کوئی مضبوط سائنسی ثبوت موجود نہیں کہ صرف گرم پانی پینے سے نمایاں وزن کم ہوتا ہے۔ ہاں اگر کوئی شخص میٹھے یا زیادہ حراروں والے مشروبات چھوڑ کر پانی پینا شروع کرے تو وزن میں کمی ممکن ہے مگر اس کا تعلق پانی کے گرم ہونے سے نہیں بلکہ بہتر عادات سے ہے۔
کچھ شواہد بتاتے ہیں کہ نیم گرم پانی آنتوں کی حرکت میں معمولی بہتری لاسکتا ہے مگر یہ چربی گھلانے کا ذریعہ نہیں۔
مفروضہ 2: گلے کی تکلیف کا علاج
گرم مشروبات گلے کی خراش اور ناک کی بندش میں وقتی سکون دے سکتے ہیں۔ حرارت بلغم کو نرم کرتی اور سوزش زدہ حصوں کو آرام پہنچاتی ہے لیکن یہ انفیکشن کا علاج نہیں، صرف علامات میں عارضی کمی لاتی ہے۔
مفروضہ 3: جلد صاف ہوتی ہے
جلد کی صفائی یا جسم سے فاسد مادوں کے اخراج میں گرم پانی کے خصوصی کردار کا کوئی ثبوت نہیں۔ جسم میں صفائی کا نظام جگر اور گردے انجام دیتے ہیں۔ البتہ مناسب پانی پینا جلد کی نمی برقرار رکھنے میں مددگار ہے چاہے وہ کسی بھی درجہ حرارت کا ہو۔
مفروضہ 4: ماہواری کے درد میں کمی
جسم کے بیرونی حصے پر حرارت دینا درد میں مددگار ہوسکتا ہے مگر گرم پانی پینا بذاتِ خود مؤثر علاج ثابت نہیں ہوا۔
اگر گرم پانی آپ کو سکون دیتا ہے اور زیادہ پانی پینے کی ترغیب دیتا ہے تو یہ اچھی بات ہے تاہم اصل فائدہ پانی کی مناسب مقدار میں ہے نہ کہ اس کی گرمی میں۔




















