ہڈیوں کے کمزور ہوجانے کی بیماری لاکھوں افراد کو متاثر کرتی ہے اور خاص طور پر بڑھتی عمر کے ساتھ اس کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔
حال ہی میں ہونے والی ایک نئی تحقیق میں سائنس دانوں نے یہ اہم راز دریافت کیا ہے کہ جسمانی حرکت اور ورزش ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں کس بنیادی طریقہ کار کے ذریعے مدد دیتی ہے۔
اس دریافت سے امید پیدا ہوئی ہے کہ مستقبل میں ایسی دوائیں تیار کی جاسکیں گی جو ورزش جیسے فوائد فراہم کرسکیں جب کہ یہ تحقیق ہانگ کانگ کی ایک جامعہ کے ماہرین نے کی۔
ماہرین کے مطابق ہڈیوں میں ایک خاص لحمیہ مادہ پایا جاتا ہے جو جسمانی دباؤ اور حرکت کو محسوس کرتا ہے۔ جب یہ متحرک ہوتا ہے تو ہڈی بنانے والے خلیات کی افزائش میں اضافہ کرتا ہے اور چکنائی بنانے والے خلیات کی تعداد کم کرتا ہے۔
تحقیق میں ہڈیوں کے گودے میں موجود بنیادی خلیات کا جائزہ لیا گیا۔ یہ خلیات دو مختلف سمتوں میں بڑھ سکتے ہیں، یا تو وہ ہڈی بنانے والے خلیات بن جاتے ہیں یا تو وہ چکنائی جمع کرنے والے خلیات میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔
ان کی سمت کا تعین مختلف عوامل کرتے ہیں جن میں ہارمونز، نشوونما کے اشارے، سوزش اور خاص طور پر جسمانی دباؤ شامل ہیں۔
ماہرین نے تجربات کے دوران دیکھا کہ جب متعلقہ لحمیہ مادہ کو چوہوں کے خلیات سے نکال دیا گیا تو ان کی ہڈیوں کی کثافت کم ہوگئی، نئی ہڈی بننے کا عمل سست پڑگیا اور گودے میں چکنائی کے خلیات بڑھ گئے۔
مزید یہ کہ ایسے چوہوں کو ورزش جیسے فائدے بھی حاصل نہ ہوسکے۔ اس سے واضح ہوا کہ یہی مادہ ہڈیوں کو مضبوط بنانے کے عمل میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔
تحقیق کاروں نے یہ بھی معلوم کیا کہ یہ لحمیہ مادہ کن حیاتیاتی راستوں کے ذریعے کام کرتا ہے اور اس کی غیر موجودگی میں سوزش اور چکنائی میں اضافہ کیوں ہوتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اگر اس عمل کو دوبارہ فعال کیا جائے تو منفی اثرات کو واپس پلٹا جاسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر مستقبل میں ایسی دوا تیار ہوجائے جو اس قدرتی عمل کو متحرک کرسکے تو کمزور، معمر یا بستر تک محدود افراد کو فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے۔
تاہم یہ تحقیق ابھی جانوروں تک محدود ہے اور انسانوں پر اطلاق کے لیے مزید محتاط تحقیق درکار ہے۔ اس کے باوجود یہ پیش رفت ہڈیوں کی بیماری کو سمجھنے اور اس کے علاج کی نئی راہیں کھولنے میں اہم قدم قرار دی جارہی ہے۔




















