ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے ایک اہم میچ میں کینیڈا کے نوجوان بیٹر یووران سمرا نےدھواں دھار سنچری بنا کر متعدد ریکارڈ قائم کر دیے ہیں۔
یووراج سمرا نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 65 گیندوں پر 110 رنز کی اننگز کھیل کر متعدد ریکارڈ اپنے نام کر لیے، اگرچہ ان کی ٹیم نیوزی لینڈ کے خلاف میچ جیت نہ سکی۔ یہ مقابلہ بھارت کے شہر چنائی میں کھیلا گیا۔

سمرا 19 سال 141 دن کی عمر میں ورلڈ کپ میں سنچری بنانے والے کم عمر ترین بیٹر بن گئے۔ اس سے قبل یہ اعزاز آئرلینڈ کے پال اسٹرلنگ کے پاس تھا، جنہوں نے 2011 کے ایک روزہ ورلڈ کپ میں 20 سال 196 دن کی عمر میں سنچری اسکور کی تھی۔ سمرا اس ایونٹ میں نصف سنچری بنانے والے بھی کم عمر ترین کھلاڑی قرار پائے۔
سمرا کے 110 رنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی پانچویں بڑی انفرادی اننگز ہیں اور 2014 کے بعد اس ٹورنامنٹ میں سب سے بڑا اسکور بھی ہے۔ یہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں کینیڈا کی جانب سے دوسرا بڑا اسکور ہے؛ اس سے پہلے آرون جون سن نے 2023 میں پاناما کے خلاف 121 ناٹ آؤٹ بنائے تھے۔
مزید پڑھیں: ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ریکارڈز دلچسپ موڑ پر، برینڈن ٹیلر منفرد اعزاز کے حامل
یہ سنچری ایک اور لحاظ سے بھی تاریخی رہی کیونکہ سمرا کسی ایسوسی ایٹ ملک کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں سنچری بنانے والے پہلے بیٹر بن گئے۔ اس سے پہلے سب سے بڑا اسکور امریکا کے ایرون جونز کا 94 ناٹ آؤٹ تھا۔
اسی طرح نیوزی لینڈ کے خلاف اس ایونٹ میں بھی یہ پہلی سنچری ہے، اس سے قبل سب سے بڑا اسکور جنوبی افریقا کے جسٹن کیمپ کے 89 ناٹ آؤٹ تھے۔
بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی میں سمرا سے کم عمر میں سنچری بنانے والوں میں فرانس کے گستواو مکیاون اور نائجیریا کے سلیم صلو شامل ہیں، تاہم ورلڈ کپ کی سطح پر سمرا کا ریکارڈ منفرد ہے۔
ان کے 110 رنز کینیڈا کے مجموعی اسکور کا تقریباً 63 فیصد رہے، جو ورلڈ کپ کی تاریخ میں بڑی انفرادی شراکتوں میں سے ایک ہے۔
اسی میچ میں نیوزی لینڈ کے گلین فلپس نے 22 گیندوں پر نصف سنچری بنا کر اپنی ٹیم کے لیے ورلڈ کپ کی تیز ترین ففٹی کا ریکارڈ قائم کیا، جس سے قبل یہ ریکارڈ ایرن ریڈ منڈ اور ٹم سیفرٹ کے پاس 23 گیندوں کے ساتھ مشترکہ طور پر موجود تھا۔
ماہرین کے مطابق یہ میچ نہ صرف نوجوان ٹیلنٹ کے ابھرنے کی علامت ہے بلکہ ایسوسی ایٹ ٹیموں کی بڑھتی ہوئی مسابقتی صلاحیت کو بھی ظاہر کرتا ہے، جو عالمی کرکٹ میں نئے توازن کی نشاندہی کر رہی ہے۔



















