کراچی: صوبائی محتسب سندھ کے زیرِ اہتمام خواتین وکلاء کو درپیش مسائل کے حل اور پیشہ ورانہ ماحول کی بہتری کے موضوع پر ایک اہم سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔
وزیر داخلہ سندھ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق سیمینار میں صوبائی محتسب جسٹس (ر) شاہنواز طارق نے میزبانی کے فرائض انجام دیے جب کہ وزیر داخلہ و قانون سندھ ضیاء الحسن لنجار نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔
سیمینار میں کام کی جگہ پر خواتین وکلاء کو درپیش ہراسانی، امتیازی سلوک اور پیشہ ورانہ رکاوٹوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ شرکاء نے قانونی، ادارہ جاتی اورپالیسی سطح پر اصلاحات کے لیے قابلِ عمل تجاویز پیش کیں تاکہ خواتین وکلاء کے لیے محفوظ اور باوقار ماحول یقینی بنایا جاسکے۔
وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی ہمیشہ خواتین کے حقوق اور تحفظ کی علمبردار رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نہ صرف پاکستان بلکہ مسلم اُمہ کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں اور آج بھی خواتین کے لیے رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ خاتون اول آصفہ بھٹو بھی خواتین کی نمائندگی اور ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کررہی ہیں اور قومی سطح پر موثر کردار ادا کررہی ہیں۔
وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی نے کبھی مرد و خواتین کے درمیان امتیاز نہیں رکھا اور قانون سازی کے عمل میں خواتین کا کردار ہمیشہ نمایاں رہا ہے۔
انہوں نے کہا وکلاء برادری قانون سازی کی بنیاد ہے اور خواتین وکلاء کی شمولیت کے بغیر مؤثر اور جامع قانون سازی ممکن نہیں۔
انہوں نے سیمینار کے شرکاء سے کہا کہ کانفرنس میں مرتب ہونے والی تمام تجاویز اور سفارشات انہیں فراہم کی جائیں تاکہ انہیں پالیسی میکنگ نشست میں زیرِ بحث لاکر عملی اقدامات کیے جاسکیں۔
وزیر داخلہ نے عندیہ دیا کہ کراچی، سندھ بار کونسل اور ڈسٹرکٹ بار کونسلز میں خواتین کی مخصوص نشستوں کے حوالے سے قانون سازی پر غور کیا جائے گا۔ اسی طرح پاکستان بار کونسل میں بھی خواتین کی نمائندگی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جوڈیشل کمیشن میں کم از کم ایک خاتون کی شمولیت ناگزیر ہے تاکہ عدالتی نظام میں صنفی توازن کو فروغ دیا جاسکے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خواتین کی پیش کردہ تجاویز کو پالیسی میکنگ کمیٹی میں زیرِ غور لایا جائے گا۔
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ خواتین ڈیسک کا قیام ہر حکومتی ادارے میں ہونا چاہیے تاکہ ہراسمنٹ اور امتیازی سلوک کی شکایات کا فوری ازالہ ممکن ہو۔
انہوں نے بتایا کہ بطور وزیر داخلہ پولیس ڈیپارٹمنٹ میں بھی خواتین افسران کو نمایاں ذمہ داریاں دی گئی ہیں اور ان کی پیشہ ورانہ ترقی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ ہماری خواتین باصلاحیت ہیں اور انہیں مساوی مواقع فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
سیمینار کے اختتام پر مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خواتین کے خلاف ہراسگی کے خاتمے اور ’’دی پروٹیکشن اگینسٹ ہراسمنٹ آف ویمن ایٹ ورک پلیس‘‘ قانون کے مؤثر نفاذ کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ عدالتوں، بار کونسلز اور مختلف سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں خواتین کو اب بھی پیشہ ورانہ چیلنجز اور نمائندگی کے فقدان کا سامنا ہے۔
مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ حکومتی و پالیسی ساز کمیٹیوں میں خواتین کی مؤثر شرکت یقینی بنائی جائے اور بار کونسلز کے انتخابات میں خواتین امیدواروں کے حوالے سے منفی رویوں کا خاتمہ کیا جائے۔
صوبائی محتسب سندھ جسٹس (ر) شاہنواز طارق نے سیمینار کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں باہمی تعاون سے خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کا خاتمہ کرنا ہوگا اور ہمارا دین بھی ہمیں مساوات اور انصاف کا درس دیتا ہے۔

















