Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

چینی سائنسدانوں کی آپٹیکل کمیونیکیشن، 6 جی ٹیکنالوجی میں بڑی کامیابی

نیا نظام آپٹییکل فائبر اور وائرلیس نیٹ ورکس دونوں کے ذریعے ’ڈوئل موڈ ٹرانسمیشن کو سپورٹ کرتا ہے

ایک چینی تحقیقی ٹیم نے آپٹیکل فائبر اور وائرلیس نیٹ ورکس کو باہم ملانے والا ایک مربوط مواصلاتی نظام تیار کیا ہے جس نے ڈیٹا کی ترسیل کی رفتار کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا ہے۔

حال ہی میں کی جانے ایک تحقیق کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز میں کمپیوٹنگ پاور کی بڑھتی ہوئی طلب اور جدید دور کے 6 جی وائر لیس نیٹ ورکس کی ترقی کے لیے مختلف حالات میں تیز رفتار اور کم ترین تاخیر کے ساتھ سگنل کی ترسیل کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: انٹرنیٹ کی رفتار میں انقلاب؛ دنیا کی پہلی آل فریکوئنسی 6 جی چپ تیار

تاہم آپٹیکل فائبر اور وائر لیس کیمیونیکیشن سسٹم کے سگنل نظام اور ہارڈ ویئرمیں فرق کی وجہ سے ایک ہی ڈھانچے پر دونوں نظاموں کے درمیان تیز رفتار اور آہنگ اینڈ ٹو اینڈ ترسیل حاصل کرنا مشکل تھا جو کہ ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورکس کے لیے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔

پیکنگ یونیورسٹی، پینگ چھنگ لیبارٹری، شنگھائی ٹیک یونیورسٹی اور نیشنل آپٹو الیکٹرکرانکس انوویشن سینٹر پر مشتمل تحقیقی ٹیم نے ایک ایسا مشترکہ مواصلاتی نظام تیار کیا ہے جو آپٹیکل فائبر پر 512 جی بی پی ایس اور وائرلیس پر400 جی بی پی ایس کی سنگل چینل سنگنل ٹرانسمیشن حاصل کرتا ہے۔

پیکنگ یونیورسٹی کے وانگ شنگ جون، جو اس مقالے کے مرکزی مصنفین میں سے ایک ہیں کے مطابق یہ نیا نظام آپٹییکل فائبر اور وائرلیس نیٹ ورکس دونوں کے ذریعے ’ڈوئل موڈ ٹرانسمیشن کو سپورٹ کرتا ہے۔ یہ نہ صرف بینڈوتھ کی حدود اور شور کے جمع ہونے سے بچاتا ہے بلکہ مداخلت کے خلاف مزاحمت کی صلاحیت کو بھی بڑھاتا ہے۔