Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

رواں سال صدقہ فطر و فدیہ صوم 300 روپے فی کس مقرر

فدیہ صرف ان دائمی مریضوں یا انتہائی ضعیف العمر افراد کے لیے ہے

کراچی:  رویت ہلال کمیٹی کے سابق چیئرمین مذہبی اسکالر مفتی منیب الرحمان نے فطرہ، فدیہ صوم اور کفارہ صوم کا اعلان کردیا ہے۔

ممتاز عالمِ دین اور سابق چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان نے رمضان المبارک 1447ھ (2026) کے لیے صدقہ فطر، فدیہ اور کفارہ صوم کی مقدار اور رقوم کا اعلان کر دیا ہے۔ رواں سال صدقہ فطر کی کم از کم مقدار 300 روپے فی کس مقرر کی گئی ہے۔

مفتی منیب الرحمان نے واضح کیا کہ یہ کم از کم رقم گندم کے نصاب کے مطابق ہے، تاہم اہل ثروت افراد کو چاہیے کہ وہ اپنی مالی حیثیت کے مطابق جَو، کھجور یا کشمش کے نصاب سے فطرہ اور فدیہ ادا کریں تاکہ مستحقین کی زیادہ بہتر طریقے سے مدد ہو سکے۔

گندم کے نصاب کے مطابق دو کلو چکی والے آٹے کی قیمت 300 روپے بنتی ہے، جو کہ فطرہ اور ایک روزے کا فدیہ ہے۔ اسی طرح چار کلو جَو کے مطابق فدیہ 1,160 روپے، چار کلو کھجور کے حساب سے 2,800 روپے اور چار کلو کشمش کے نصاب سے 7,200 روپے فی کس ادا کیا جا سکتا ہے۔

روزہ جان بوجھ کر توڑنے کے کفارے کے حوالے سے مفتی منیب الرحمان نے بتایا کہ اس کا حکم 60 مساکین کو دو وقت کا کھانا کھلانا ہے۔ مالی طور پر اس کی رقم گندم کے حساب سے 18,000 روپے، جَو کے حساب سے 69,600 روپے، کھجور کے حساب سے 1,68,000 روپے جبکہ کشمش کے حساب سے 4,32,000 روپے بنتی ہے۔

مفتی صاحب نے وضاحت کی کہ فدیہ صرف ان دائمی مریضوں یا انتہائی ضعیف العمر افراد کے لیے ہے جو روزہ رکھنے کی قدرت نہیں رکھتے اور مستقبل میں بھی ان کی صحت یابی کے آثار نہیں ہیں۔ عارضی مریض یا مسافر جو سفر یا بیماری کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکیں، وہ بعد میں روزوں کی قضا کریں گے، فدیہ ان کے لیے بدل نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو شخص روزہ رکھ کر کسی شرعی عذر کے بغیر توڑ دے، اس پر کفارہ لازم ہے جس کے لیے اسے مسلسل 60 روزے رکھنے ہوں گے اور ایک روزے کی قضا کرنی ہوگی۔ اگر وہ روزہ رکھنے کی جسمانی قدرت نہ رکھتا ہو تو پھر مالی کفارہ ادا کرنا ہوگا۔