Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پارکنسن یا رعشہ کی بیماری کا اشارہ شاید آپ کے بالوں میں چھپا ہو، تحقیق میں انکشاف

تحقیق میں 60 پارکنسن کے مریضوں کے بالوں کا موازنہ صحت مند افراد سے کیا گیا۔

چین کے محققین نے انسانی بالوں میں پارکنسن یا رعشہ کی بیماری کے لیے ممکنہ بایو مارکر دریافت کیا ہے جو غیر مہلک اور آسان تشخیص ہے۔

تحقیق میں 60 پارکنسن کے مریضوں کے بالوں کا موازنہ صحت مند افراد سے کیا گیا۔ نتائج سے پتا چلا کہ مریضوں کے بالوں میں آئرن اور کاپر کم جب کہ مینگنیز اور ارسنک کی مقدار زیادہ تھی۔

یہ تحقیق ہیبی یونیورسٹی کے حیاتیات دان منگ لی کی قیادت میں کی گئی جن کا کہنا ہے کہ یہ دریافت پارکنسن کی تشخیص میں ’’اعلیٰ صلاحیت‘‘ رکھتی ہے۔

انہون نے بتایا کہ بال، خون یا پیشاب کے برعکس طویل مدت کے دوران صحت کے نشانات جمع کرسکتے ہیں کیونکہ یہ ماحول اور غذا سے بھاری دھاتیں جذب کرلیتے ہیں۔ مزید تجربات میں چوہوں میں بھی بالوں میں آئرن کی کمی دیکھی گئی جو آنتوں کے فعل میں خرابی سے جڑی تھی۔

مریضوں میں جینیاتی سطح پر آئرن کے جذب سے متعلق خامیاں پائی گئیں اور مائیکرو بائیل آئرن کے حصول میں سرگرمی زیادہ ہوئی جس سے پورے جسم میں آئرن کی کمی واقع ہوسکتی ہے۔

انسانی مریضوں میں آنتوں کے بیکٹیریا میں تبدیلی تشخیص سے کئی سال پہلے ظاہر ہوتی ہے اور یہ بیماری دماغ اور آنتوں کے درمیان تعلق پر مبنی معلوم ہوتی ہے۔ بال اس تبدیلی کی نشاندہی کرسکتے ہیں کیونکہ آئرن کی کمی سب سے واضح اور مستقل تبدیلی ہوتی ہے۔

تحقیق میں ارسنک کی بلند مقدار کو بھی ماحولیاتی اثرات یا خوراک کے ذریعے لاحق ہونے کا امکان بتایا گیا کیونکہ مریض زیادہ جانوروں کے جگر یا سی فوڈ استعمال کرتے تھے۔

محققین کا نتیجہ یہ ہے کہ بالوں میں آئرن کی کمی پارکنسن کے مریضوں میں آنتوں کی خرابی اور بیکٹیریا کی غیر متوازن حالت سے جڑی ہوسکتی ہے۔ یہ دریافت پچھلی مطالعات کے نتائج کی تائید بھی کرتی ہے جن میں دماغ، خون اور آنتوں میں آئرن کے توازن میں خلل دیکھا گیا ہے۔

محققین نے کہا کہ مستقبل میں بڑے گروپس پر تحقیق کرکے اس پیٹرن کی تصدیق ضروری ہے اور ممکنہ طور پر آئندہ صرف ایک بال کے مطالعہ سے اس بیماری کی نشاندہی ممکن ہوجائے گی۔