Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

عافیہ صدیقی کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے لارجر بینچ کا بڑا فیصلہ جاری

عدالت نے واضح کیا کہ آئین کے آرٹیکل 202 اور ہائی کورٹ رولز کے تحت چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں۔

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے بڑا فیصلہ دیتے ہوئے عافیہ صدیقی کیس میں 21 جولائی کا حکم نامہ کالعدم دے کر وزیراعظم و کابینہ کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی ختم کردی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے لارجر بینچ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے 21 جولائی 2025 کا حکم نامہ قانونی دائرہ اختیار سے باہر قرار دے کر کالعدم کردیا۔

عدالت نے واضح کیا کہ آئین کے آرٹیکل 202 اور ہائی کورٹ رولز کے تحت چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اور بینچوں کی تشکیل کا خصوصی اختیار انہی کو حاصل ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ ہائی کورٹ کا کوئی بھی بینچ چیف جسٹس کے منظور شدہ روسٹر کے ذریعے ہی تشکیل پاتا ہے اور کوئی جج یا بینچ اپنی مرضی سے کسی مقدمے کو خود کو الاٹ نہیں کرسکتا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ عدالتی اختیار جج کی انفرادی حیثیت سے وابستہ نہیں ہوتا بلکہ صرف قانونی طور پر تشکیل شدہ بینچ کے ذریعے ہی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

لارجر بینچ نے نشاندہی کی کہ 21 جولائی 2025 کو جاری کیا گیا حکم نامہ اس وقت دیا گیا جب متعلقہ جج منظور شدہ روسٹر کا حصہ نہیں تھے، اس لیے اس حکم کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ منظور شدہ روسٹر کی خلاف ورزی پر جاری کیے گئے احکامات مؤثر نہیں سمجھے جاسکتے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ چیف جسٹس کو اختیار حاصل ہے کہ وہ مقدمات کو یکجا کرکے کسی بھی بینچ کو منتقل کریں جب کہ ہائی کورٹ کے قواعد کی پابندی تمام ججوں اور عدالتی افسران پر لازم ہے۔

یہ فیصلہ جسٹس ارباب محمد طاہر، جسٹس انعام امین منہاس، جسٹس محمد اعظم خان اور جسٹس خادم حسین سومرو پر مشتمل لارجر بینچ نے سنایا۔

پس منظر میں جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے وفاقی حکومت کی جانب سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی واپسی کے لیے کی جانے والی کوششوں پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حکام کو توہینِ عدالت کے شوکاز نوٹس جاری کیے تھے۔

لارجر بینچ نے اپنے فیصلے میں وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی بھی ختم کردی اور قرار دیا کہ یہ معاملہ خود ساختہ عدالتی کارروائی کے ذریعے حل نہیں کیا جاسکتا۔

فیصلے میں امریکی سپریم کورٹ کے جج جسٹس فیلکس فرینکفرٹر کے اقوال کا حوالہ بھی شامل کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں