Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

لاہور ہائیکورٹ کا خواتین کے حق میں بڑا اور تاریخی فیصلہ

خاتون اپنی موجودہ رہائش گاہ کے شہر میں شوہر کے خلاف تمام فیملی دعوے دائر کرنے کی مجاز قرار

عدالت نے فیملی کیسز کے دائرہ اختیار سے متعلق نئی اور واضح تشریح کرتے ہوئے خواتین کو بڑی قانونی سہولت فراہم کر دی۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مزمل اختر شبیر نے پانچ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ خاتون اپنی موجودہ رہائش گاہ کے شہر میں شوہر کے خلاف تمام فیملی دعوے دائر کرنے کی مجاز ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ بیوی خلع، حق مہر، نان نفقہ (خرچہ) اور سامان جہیز کی واپسی کا مشترکہ دعویٰ اپنی رہائش گاہ کی متعلقہ عدالت میں دائر کر سکتی ہے۔ حتیٰ کہ اگر خاتون خلع کا مطالبہ نہ بھی کرے تب بھی وہ اپنی رہائش کی عدالتی حدود میں دیگر فیملی مقدمات دائر کرنے کا حق رکھتی ہے۔

مزید پڑھیں: سانحہ گل پلازہ؛ گورنر کا جوڈیشل کمیشن کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ محض نکاح کی تنسیخ کا مطالبہ نہ ہونے کی بنیاد پر خاتون کے دعوے کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت کے مطابق قانون کا مقصد مقدمات کی کثرت کو روکنا اور فریقین کو بار بار کی قانونی پیچیدگیوں سے بچانا ہے، اس لیے تمام مطالبات کا ایک ہی عدالت میں سنا جانا ضروری ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ شادی کسی بھی شہر میں ہوئی ہو یا میاں بیوی کہیں بھی مقیم رہے ہوں، بیوی کی موجودہ رہائش گاہ ہی مقدمہ دائر کرنے کے لیے کافی ہے۔ قانون کو عوام کی سہولت کے لیے استعمال ہونا چاہیے نہ کہ رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لیے۔

فیصلے میں فیملی کورٹ رولز کی شق 6 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ شق خواتین کی سہولت کے لیے بنائی گئی ہے اور اسے محدود نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت کے مطابق شوہر کا مؤقف تسلیم کرنے سے قانون کا اصل مقصد ہی ختم ہو جائے گا۔

عدالت نے ڈی جی خان کی فیملی کورٹ کے فیصلے کے خلاف شوہر محمد احمد طارق کی اپیل خارج کر دی۔

شوہر کا مؤقف تھا کہ ڈی جی خان کی عدالت کو سامان جہیز کی واپسی کے کیس کی سماعت کا اختیار نہیں کیونکہ نہ شادی وہاں ہوئی اور نہ ہی فریقین وہاں بطور میاں بیوی مقیم رہے۔

خاتون مسماۃ عائشہ کا مؤقف تھا کہ قانون انہیں اپنی موجودہ رہائش گاہ پر کیس دائر کرنے کی مکمل اجازت دیتا ہے اور مہر و جہیز کا مشترکہ دعویٰ ایک ہی جگہ دائر کرنا ان کا قانونی حق ہے۔

متعلقہ خبریں