Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

آئی ایم ایف وفد پاکستان پہنچ گیا، اسٹیٹ بینک حکام سے ملاقات

دورہ 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تحت تیسرے اقتصادی جائزے کے سلسلے میں ہو رہا ہے

آئی ایم ایف کا وفد 15 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گیا ہے، اس وقت آئی ایم ایف وفد کی اسٹیٹ بینک کے حکام کے ساتھ اہم ملاقات جاری ہے۔

ملاقات میں ملک کی معاشی کارکردگی، مالیاتی اشاریوں اور متعلقہ ڈیٹا پر بریفنگ دی جائے گی۔ حکام وفد کو حالیہ اقتصادی پیش رفت، زرمبادلہ ذخائر اور اصلاحاتی اقدامات سے آگاہ کریں گے۔

واضح رہے کہ یہ دورہ 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تحت تیسرے اقتصادی جائزے کے سلسلے میں ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وفد 1.1 ارب ڈالر کی لچک اور پائیداری سہولت (آر ایس ایف) کے تحت دوسرے جائزے کے لیے بھی مشاورت کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں: 2030 تک پاکستانی برآمدات کے حوالے سے آئی ایم ایف کی بڑی پیشگوئی

اقتصادی ماہرین کے مطابق ان جائزوں کے نتائج پاکستان کے جاری مالیاتی پروگرام اور مستقبل کی قسطوں کی منظوری کے لیے اہمیت رکھتے ہیں، جبکہ مذاکرات میں اصلاحات کے نفاذ اور اہداف کی پیش رفت کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں مذاکرات کراچی میں ہور ہے ہیں جبکہ دوسرا مرحلہ 2 مارچ سے اسلام آباد میں ہوگا۔ مشن مالی سال کے پہلے چھ ماہ (جولائی تا دسمبر) کی معاشی کارکردگی کا جائزہ لے گا جبکہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کے بنیادی خدوخال بھی ایجنڈے میں شامل ہیں۔

وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیکس ریونیو کے سوا آئی ایم ایف کے بیشتر اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں۔ ایف بی آر کو پہلے چھ ماہ میں 329 ارب روپے جبکہ سات ماہ میں 372 ارب روپے کے شارٹ فال کا سامنا ہے، جس پر مشن کو بریفنگ دی جائے گی۔

حکومت کی جانب سے سالانہ ٹیکس ہدف میں مزید کمی کی درخواست بھی زیر غور ہے۔

ذرائع کے مطابق صوبائی اور مجموعی مالیاتی فریم ورک، گورننس، اینٹی کرپشن اقدامات، نیب اور اہم اداروں میں تقرریوں کے عمل کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ ایف بی آر کے انسدادِ بدعنوانی سیل کو مزید مضبوط بنانے، سرکاری افسران کے اثاثے عام کرنے اور اصلاحاتی ایکشن پلان پر بھی بات چیت ہوگی۔

حکام کا کہنا ہے کہ پرائمری فسکل سرپلس جی ڈی پی کے تقریباً 1.3 فیصد کے برابر حاصل کیا جا چکا ہے جبکہ صوبوں نے مجموعی طور پر 1180 ارب روپے کا کیش سرپلس دیا۔ صوبائی ٹیکس اہداف پورے ہوئے، کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس رہا اور زرمبادلہ ذخائر پروگرام کے ہدف سے بہتر سطح پر برقرار ہیں۔

جولائی تا نومبر لارج اسکیل مینوفیکچرنگ شعبے میں تقریباً 6 فیصد گروتھ رپورٹ ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق حالیہ سیلاب سمیت مشکلات کے باوجود قرض پروگرام آن ٹریک ہے۔

یہ دورہ 7 ارب ڈالر کے ای ایف ایف پروگرام اور 1.4 ارب ڈالر کے آر ایس ایف پروگرام کا حصہ ہے، جن کا مجموعی حجم 8.4 ارب ڈالر بنتا ہے۔ دونوں پروگراموں کے تحت پاکستان کو اب تک 3.3 ارب ڈالر موصول ہو چکے ہیں۔