بایوٹیک کمپنی سولس کیور لمیٹڈ نے اپنے دوسرے فیز ٹو کلینیکل ٹرائل کی کامیابی سے تکمیل کا اعلان کیا ہے۔
دوا کے تجرباتی علاج اوریز واؤند جیل نے معیاری علاج کے مقابلے میں دائمی زخموں کو نمایاں طور پر تیزی سے مندمل کیا۔ مطالعہ ایسے مریضوں پر کیا گیا جنہیں طویل عرصے سے نہ بھرنے والے وریدی ٹانگ کے زخموں کا سامنا تھا۔
نتائج کے مطابق جیل میں موجود فعال جزو ٹارو میز کی زیادہ مقدار کے استعمال سے زخموں کی صفائی کی رفتار نمایاں طور پر بڑھ گئی۔
تحقیق کے مطابق زخموں سے مردہ بافتوں کے اخراج کی رفتار معیاری علاج کے مقابلے میں بائیس گنا تیز رہی، جبکہ مجموعی شفا کی شرح سات گنا زیادہ دیکھی گئی۔
مزید پڑھیں: سندھ حکومت، محنت کشوں کے لیے 7 لاکھ کی حادثاتی ہیلتھ انشورنس اسکیم منظور
چھبیس دن بعد اوریز واؤند جیل استعمال کرنے والے گروپ میں پینسٹھ فیصد زخموں کی صفائی ریکارڈ ہوئی، جبکہ کنٹرول گروپ میں یہ شرح نو فیصد رہی۔
اسی طرح زخم کے سائز میں اٹھاون فیصد کمی دیکھی گئی، جبکہ معیاری علاج والے گروپ میں یہ کمی پندرہ فیصد تھی۔
کمپنی کے مطابق اس علاج کا دوہرا طریقۂ کار ہے۔ ایک جانب یہ مسلسل مردہ بافتوں کو ہٹاتا ہے اور دوسری جانب ٹارو میز جسم میں موجود مخصوص ریسپٹرز کو متحرک کر کے شفا کے قدرتی عمل کو شروع کرتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ جیل نے بہترین حفاظتی معیار برقرار رکھا، مریضوں کو اضافی درد نہیں ہوا اور جسمانی، نفسیاتی اور روزمرہ زندگی کے معیار میں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں دائمی زخم ایک سنگین طبی مسئلہ ہیں جو لاکھوں افراد کو متاثر کرتے اور صحت کے نظام پر بھاری بوجھ ڈالتے ہیں۔
کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ اس مطالعے کے مکمل طبی نتائج جلد ہم مرتبہ جائزہ کے لیے شائع کیے جائیں گے اور آئندہ مرحلے میں مزید تحقیق اور شراکت داری پر کام جاری رہے گا۔



















