Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

گھوڑے کی ہنہناہٹ؛ گھوڑا ایک نہیں دو آوازیں نکالتا ہے

گھوڑے عموماً نئے ساتھیوں کو بلانے، خوش آمدید کہنے یا خوراک ملنے پر خوشی ظاہر کرنے کے لیے ہنہناتے ہیں۔

نیویارک: ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ گھوڑے کی ہنہناہٹ دراصل دو مختلف آوازوں کا مجموعہ ہوتی ہے جو ایک ہی وقت میں پیدا ہوتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ آواز ایک بھاری اور ایک تیز سُر پر مشتمل ہوتی ہے۔

گھوڑے عموماً نئے ساتھیوں کو بلانے، پرانے کو خوش آمدید کہنے یا خوراک ملنے پر خوشی ظاہر کرنے کے لیے ہنہناتے ہیں تاہم یہ سوال طویل عرصے سے ماہرین کے لیے معمہ بنا ہوا تھا کہ وہ یہ منفرد آواز کیسے پیدا کرتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق آواز کا بھاری حصہ حلق میں موجود بافتوں کی لرزش سے پیدا ہوتا ہے جو انسانوں کی بولنے کی آواز سے ملتا جلتا طریقہ ہے لیکن تیز سُر والی آواز کا راز زیادہ پیچیدہ تھا کیونکہ عموماً بڑے جانور گہری آوازیں نکالتے ہیں۔

ماہرین نے گھوڑوں کی ناک کے راستے ایک چھوٹا کیمرہ داخل کرکے اندرونی عمل کا مشاہدہ کیا۔ اس کے علاوہ مردہ گھوڑوں کے حلق کا تفصیلی معائنہ بھی کیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ تیز سُر والی آواز دراصل سیٹی کی طرح پیدا ہوتی ہے۔ جب ہوا حلق میں موجود بافتوں کو حرکت دیتی ہے تو اوپر کا حصہ سکڑ کر ایک باریک راستہ بنا دیتا ہے، جہاں سے سیٹی جیسی آواز خارج ہوتی ہے اور یہ طریقہ انسانوں کے منہ سے سیٹی بجانے سے مختلف ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چند چھوٹے جانور بھی اسی طرح کی آواز نکالتے ہیں لیکن گھوڑا پہلا بڑا جانور ہے جو حلق کے ذریعے سیٹی نما آواز پیدا کرسکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گھوڑے بیک وقت دو مختلف انداز سے آواز نکال سکتے ہیں۔

تحقیق کرنے والے ماہرین کے مطابق دو مختلف سُروں پر مشتمل ہنہناہٹ گھوڑوں کو اپنے جذبات بہتر انداز میں ظاہر کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اس طرح وہ ایک ہی وقت میں مختلف پیغامات دے سکتے ہیں۔

ماہرین اب اس بات پر مزید تحقیق کرنا چاہتے ہیں کہ گھوڑوں میں یہ دوہری آواز پیدا کرنے کی صلاحیت کیسے پیدا ہوئی۔ جنگلی نسل کے کچھ گھوڑوں میں بھی یہ خاصیت پائی گئی ہے تاہم گدھوں اور زیبرا میں یہ صلاحیت موجود نہیں۔