واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پرمزید حملوں کا اعلان کرتے ہوئے زمینی فوج بھیجنے کا عندیہ دے دیا۔
وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے ایران کے خلاف جاری فوجی آپریشنز کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور مزید حملوں کا عندیہ دیا ہے۔
ایران کو مشرق وسطیٰ کے لیے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران میں طاقتور آپریشن کیے جارہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ امریکا اور اسرائیل نے ہفتے کی صبح ایران کے خلاف آپریشن ایپک فیوری شروع کیا۔ اس آپریشن میں ایران کے 49 سینئر رہنماؤں کو ہلاک کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بھی خبردار کیا گیا تھا کہ وہ اپنا میزائل پروگرام دوبارہ شروع نہ کرے لیکن ایران نے ان وارننگز کو نظر انداز کردیا۔
ٹرمپ نے بتایا کہ امریکی فوج ایران کی بیلسٹک میزائل صلاحیتوں کو تباہ کررہی ہے اور ایران میں میزائل بنانے والی سائٹس کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ کو بھی ختم کیا جارہا ہے اور اب تک 10 ایرانی بحری جہاز تباہ کیے جاچکے ہیں۔
امریکی صدر کہتے ہیں کہ ایران بیلسٹک میزائل اور جوہری ہتھیار بنارہا تھا۔ ایرانی حکومت سے لاحق خطرات کو ختم کرنا ان کے لیے آخری موقع تھا۔
ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ ان حملوں میں 4 امریکی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں جس پر انہوں نے افسوس کا اظہار کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران کی میزائل صلاحیتوں کو تباہ کرنا ان کی ترجیح ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران پر جلد بڑی کارروائی کی جارہی ہے اور اگر ضرورت پڑی تو زمینی فوج بھیجنے پر بھی غور کیا جاسکتا ہے، ایران پر اس حملے میں ہر کوئی ہمارے ساتھ تھا۔


















