ایران سے متعلق جاری صورتحال پر امریکی سینیٹرز کو دی گئی خفیہ بریفنگ کے بعد قانون سازوں نے ممکنہ طویل جنگ اور واضح حکمتِ عملی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ریپبلکن سینیٹر جوش ہاؤلے نے کہا کہ بریفنگ میں جنگ کے خاتمے کی کوئی واضح تاریخ نہیں دی گئی اور وہ ایران میں زمینی فوجی کارروائی کی حمایت نہیں کریں گے۔
ڈیموکریٹ سینیٹر کرس مورفے نے خبردار کیا کہ یہ تنازع ایک مسلسل اور اربوں ڈالر کی جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔
سینیٹر ٹم کین کے مطابق بریفنگ کے بعد بھی کوئی واضح اور فوری مقصد سامنے نہیں آیا، جبکہ ریپبلکن سینیٹر ٹومی ٹیوبرویلے نے اندازہ ظاہر کیا کہ امریکی کارروائی 3 سے 5 ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: ترک وزیرخارجہ کے بیان سے صورتحال گھمبیر، امریکا سے کارروائیاں محدود کرنے کا مطالبہ
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سینیٹرز نے اہداف کی غیر واضح صورتحال اور بدلتے مقاصد پر تشویش کا اظہار کیا ہے، اور مزید وضاحت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
ایران جنگ میں اسلحے کے زیادہ استعمال پر امریکی ڈیموکریٹس کی تشویش
امریکی ڈیموکریٹ سینیٹرز نے ایران سے جاری تنازع میں اسلحے کے بڑھتے ہوئے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور فوجی ذخائر سے متعلق سوالات اٹھائے ہیں۔
سینیٹر مارک کیلے نے خبردار کیا کہ امریکا کے پاس لامحدود اسلحہ ذخیرہ نہیں، اور موجودہ جنگ اب حساب کتاب کا معاملہ بن چکی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ فضائی دفاعی ہتھیاروں کو دوبارہ کیسے بھرا جائے گا اور آیا اضافی فنڈنگ کے لیے کانگریس سے رجوع کرنا پڑے گا۔
اسی حوالے سے سینیٹر اینڈی کم نے بھی امریکی اسلحہ ذخائر میں کمی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر امریکا کی عسکری تیاری متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ڈیموکریٹ سینیٹرز نے مطالبہ کیا ہے کہ انتظامیہ کانگریس کو مکمل تفصیلات فراہم کرے تاکہ دفاعی حکمتِ عملی اور اسلحہ ذخائر کی صورتحال پر واضح تصویر سامنے آ سکے۔
حکام کی جانب سے ان خدشات پر مزید باضابطہ وضاحت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔




















