ایران کے خلاف جاری جنگ کے تسلسل پر اسرائیل میں عوامی حمایت تو موجود ہے، لیکن ماہرین طویل المدتی فوجی اور معاشی برداشت پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
عوامی حمایت بمقابلہ طویل جنگ کا بوجھ
عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی شہروں جیسے تل ابیب اور حیفا میں میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد سائرن، اسکولوں کی بندش اور ریزرو فوجیوں کی بڑے پیمانے پر طلبی جاری ہے۔
سیاسی ماہرین کے مطابق موجودہ مرحلے میں حکومت کو وسیع عوامی حمایت حاصل ہے، اور وزیرِاعظم نیتن یاہو کو اپوزیشن کی بڑی جماعتوں کی بھی تائید حاصل ہے۔
مزید پڑھیں: ایرانی میزائلوں کی بارش سے مرکزی اسرائیل میں دھماکے، ہنگامی حالت نافذ
تاہم بعض دانشوروں کا کہنا ہے کہ طویل جنگ اسرائیلی معاشرے کو مزید عسکریت پسند بنا سکتی ہے اور سیاسی تقسیم میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
فوجی صلاحیت اور دفاعی نظام
ایران نے ابتدائی دنوں میں بڑی تعداد میں بیلسٹک میزائل داغے۔ اسرائیل کا فضائی دفاع تین تہوں پر مشتمل ہے:
آئرن ڈوم: قلیل فاصلے کے راکٹوں کے خلاف
ڈیوڈ سلنگ: درمیانے فاصلے کے میزائلوں کے خلاف
ایرو-3:– بیلسٹک میزائلوں کے خلاف
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران مسلسل بڑی تعداد میں میزائل داغتا رہا تو اسرائیل کو انٹرسیپٹر میزائلوں کی قلت کا سامنا ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر امریکا کی جانب سے سپلائی محدود ہو جائے۔
ایرانی میزائلوں کی پیداوار کی رفتار اور لانچرز کی دستیابی بھی جنگ کی طوالت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
معاشی دباؤ
دو سال سے زائد عرصے سے جاری مختلف محاذوں کی لڑائیوں نے اسرائیلی معیشت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ لبنان اور غزہ میں جنگی اخراجات اربوں ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جبکہ ریزرو فوجیوں کی طویل تعیناتی نے لیبر مارکیٹ اور پیداواری صلاحیت کو متاثر کیا ہے۔
کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے اسرائیل کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں کمی بھی کی جا چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر جنگ کئی ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہی تو بجٹ خسارہ اور قرضوں کا بوجھ مزید بڑھ سکتا ہے۔
کیا جنگ لمبی چل سکتی ہے؟
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا مسلسل عسکری اور تکنیکی مدد فراہم کرتا رہا تو اسرائیل زیادہ عرصے تک جنگ جاری رکھ سکتا ہے۔
اگر دفاعی نظام پر دباؤ بڑھا اور انٹرسیپٹرز کی قلت ہوئی تو شہری نقصانات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ طویل جنگ اسرائیلی معاشرے اور معیشت دونوں کے لیے گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
نتیجہ:
فی الحال عوامی حمایت موجود ہے، مگر جنگ کی طوالت کا دارومدار دفاعی ذخائر، امریکی حمایت، اور معاشی برداشت پر ہوگا۔ اگر تنازع کئی ہفتوں سے بڑھ کر مہینوں تک گیا تو اسرائیل کو فوجی کے ساتھ ساتھ معاشی اور سماجی چیلنجز کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے
۔
















