مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی وفات کے بعد ایک ممکنہ جانشین کے طور پر دوبارہ سامنے آئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ اُس وقت سے زیرِ بحث ہیں جب امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ان کے والد کی شہادت ہوئی۔
اگرچہ مقامی حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی سرکاری اعلان نہیں کیا گیا، تاہم اسرائیلی اور مغربی میڈیا اداروں نے رپورٹ کیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای، جو ایک سخت گیر مذہبی رہنما سمجھے جاتے ہیں، ایران کے 47 سالہ اسلامی جمہوریہ کے نئے سپریم لیڈر کے لیے سب سے مضبوط امیدواروں میں شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ان کی والدہ، اہلیہ اور ایک بہن بھی امریکی اور اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے ہیں، تاہم مجتبیٰ اس وقت وہاں موجود نہیں تھے اور وہ شدید بمباری کے باوجود محفوظ رہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے کبھی کسی عوامی عہدے کے لیے انتخاب نہیں لڑا اور نہ ہی وہ کسی عوامی ووٹ کے ذریعے منتخب ہوئے ہیں، لیکن وہ کئی دہائیوں سے سپریم لیڈر کے قریبی حلقے میں نہایت بااثر شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے تعلقات اسلامی انقلابی گارڈز (IRGC) سے گہرے بتائے جاتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر پاکستانی شوبز انڈسٹری غمزدہ
حالیہ برسوں میں انہیں اپنے والد کے ممکنہ جانشین کے طور پر زیادہ نمایاں کیا جا رہا ہے، جو تقریباً 36 سال تک ایران کے سپریم لیڈر رہے۔ اگر وہ اس منصب پر فائز ہوتے ہیں تو اسے ایران کے اندر سخت گیر دھڑے کی طاقت برقرار رہنے کی علامت سمجھا جائے گا اور اس سے یہ اشارہ مل سکتا ہے کہ حکومت فوری طور پر مذاکرات یا کسی معاہدے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔
مجتبیٰ خامنہ ای کی عمر 56 سال بتائی جاتی ہے۔ انہوں نے جانشینی کے معاملے پر کبھی کھل کر بات نہیں کی، کیونکہ یہ موضوع حساس ہے۔ اگر وہ سپریم لیڈر بن جاتے ہیں تو اسے بعض مبصرین ایک طرح کی خاندانی حکمرانی سے تشبیہ دیتے ہیں، جیسا کہ 1979 کے اسلامی انقلاب سے پہلے پہلوی بادشاہت تھی۔
انہوں نے عمومی طور پر کم نمایاں کردار اختیار کیا ہے، نہ وہ عوامی لیکچر دیتے ہیں، نہ جمعہ کے خطبات اور نہ ہی سیاسی تقاریر، جس کی وجہ سے بہت سے ایرانیوں نے کبھی ان کی آواز تک نہیں سنی، اگرچہ وہ طویل عرصے سے نظام کے اندر ایک ابھرتے ہوئے رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
الزامات
تقریباً دو دہائیوں سے ملکی اور غیر ملکی مخالفین ان کا نام ایرانی مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی سے جوڑتے رہے ہیں۔
2009 کی گرین موومنٹ کے دوران، جو اس وقت کے صدر محمود احمدی نژاد کے متنازع دوبارہ انتخاب کے بعد شروع ہوئی تھی، اصلاح پسند حلقوں نے ان پر انتخابات میں مبینہ مداخلت اور باسیج فورس کے ذریعے پرامن مظاہرین پر کریک ڈاؤن کے الزامات لگائے۔
باسیج فورس بعد میں بھی ملک گیر احتجاجی تحریکوں کے خلاف کارروائیوں کے مرکز میں رہی۔ حالیہ بڑے احتجاجی واقعات میں بھی ریاستی فورسز پر سخت اقدامات کے الزامات سامنے آئے، جن کے بارے میں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے کہا کہ ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔
ایرانی قیادت اور حکومتی حلقے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ہلاکتیں دہشت گردوں یا فسادیوں کی کارروائیوں کا نتیجہ تھیں، جنہیں امریکا اور اسرائیل کی حمایت حاصل تھی۔
عسکری پس منظر
مجتبیٰ خامنہ ای نے نوجوانی میں ایران عراق جنگ کے دوران مسلح افواج کے ایک یونٹ میں خدمات انجام دیں۔ اسی دوران ان کے کئی ساتھی بعد میں انٹیلی جنس اور سکیورٹی اداروں میں اہم عہدوں تک پہنچے۔
مغربی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان پر پابندیاں بھی عائد ہیں۔ بعض رپورٹس میں ان کے مبینہ اقتصادی نیٹ ورک کا ذکر کیا گیا ہے، جس کے ذریعے مبینہ طور پر اربوں ڈالر منتقل کیے گئے، تاہم انہوں نے ان الزامات پر عوامی طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
کچھ رپورٹس میں ان کا نام علی انصاری نامی شخص سے جوڑا گیا ہے، جن کے بینک کو مالی مشکلات کے باعث بند کیا گیا تھا۔ ان معاملات کے بارے میں دونوں افراد نے عوامی طور پر تفصیلی وضاحت نہیں دی۔
مذہبی حیثیت
مجتبیٰ خامنہ ای کا مذہبی رتبہ حجۃ الاسلام ہے، جو آیت اللہ سے کم درجہ ہے۔ تاہم ان کے والد بھی 1989 میں سپریم لیڈر بنتے وقت آیت اللہ نہیں تھے، اور بعد میں آئینی نرمی کی گئی تھی۔ اسی طرح کی کوئی قانونی یا آئینی گنجائش ان کے لیے بھی ممکن ہو سکتی ہے۔
موجودہ صورتحال
مضمون کے مطابق ملک میں سخت کشیدگی کے دوران انٹرنیٹ بندش اور معلومات پر پابندیاں عائد ہیں۔ آئین کے مطابق نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کی ذمہ داری 88 رکنی مذہبی ادارے اسمبلی آف ایکسپرٹس پر ہوتی ہے۔
اسی دوران ایک عارضی تین رکنی کونسل کے ذریعے وقتی انتظامی امور چلائے جا رہے ہیں۔


















