کولکتہ میں کھیلے گئے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے پہلے سیمی فائنل میں فن ایلن نے شاندار اور ریکارڈ ساز اننگز کھیلتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی۔
ان کی دھواں دار بیٹنگ کی بدولت نیوزی لینڈ نے جنوبی افریقا کو نو وکٹوں سے شکست دی اور میچ میں 43 گیندیں باقی رہ گئیں، یوں مقابلہ مکمل طور پر یکطرفہ ثابت ہوا۔
فن ایلن نے صرف 33 گیندوں پر سنچری مکمل کی جو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی تاریخ کی تیز ترین سنچری ہے۔ انہوں نے اس کارنامے کے ساتھ کرس گیل کا 2016 میں 47 گیندوں کا ریکارڈ توڑ ڈالا۔
فن ایلن کی یہ سنچری مردوں اور خواتین دونوں کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں تیز ترین سنچری قرار پائی ہے، جبکہ اس سے قبل عالمی مقابلوں میں تیز ترین سنچری کا ریکارڈ ڈینڈرا ڈوٹن کے پاس تھا، ڈوٹن نے 2010 میں 38 گیندوں پر سنچری اسکور کی تھی۔
مزید پڑھیں: رواں ورلڈ کپ میں بھارتی فیلڈنگ بے نقاب، آسان کیچز بھی ہاتھ سے نکلنے لگے
یہ اننگز اس لیے بھی تاریخی ہے کہ فن ایلن ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ میچ میں سنچری بنانے والے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں۔
انہوں نے صرف 19 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کی، جو اس ایونٹ کے ناک آؤٹ مرحلے میں تیز ترین ہے۔ ان کی اننگز میں 18 چوکے شامل تھے، اور اس ورلڈ کپ میں مجموعی طور پر 20 چھکے لگا کر انہوں نے ایک ایڈیشن میں سب سے زیادہ چھکوں کا نیا ریکارڈ بھی قائم کیا۔
نیوزی لینڈ کی جانب سے پاور پلے میں بغیر وکٹ کے 84 رنز اسکور کیے گئے جو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی ناک آؤٹ تاریخ کا سب سے بڑا پاور پلے اسکور ہے۔
اس کے علاوہ فن ایلن اور ٹم سیفرٹ کے درمیان 463 رنز کی شراکت اس ایونٹ میں کسی بھی جوڑی کی سب سے بڑی شراکت بن گئی۔
اس کامیابی کے ساتھ نیوزی لینڈ نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں جنوبی افریقا کے خلاف اپنی پہلی فتح بھی حاصل کی، جبکہ ناک آؤٹ میچوں میں جنوبی افریقا کے خلاف ان کا ریکارڈ اب بھی مکمل طور پر ناقابلِ شکست ہے۔


















